امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای شہید، 201 سے زائد ہلاکتیں
تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک مبینہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس حملے میں کم از کم 201 ایرانی شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مسلح افواج کے سربراہ اور وزیر دفاع سمیت متعدد اعلیٰ فوجی اہلکار بھی شہید ہوئے ہیں۔
قیادتی تبدیلی اور عالمی ردعمل
ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ سپریم لیڈر کے فرائض کی عارضی طور پر انجام دہی کے لیے قیادتی کونسل کے تشکیل کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ عرفی کو قیادتی کونسل کے فقہی رکن کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔
امریکی صدر کا انتباہ اور سی آئی اے کا کردار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو امریکہ ’پہلے کبھی نہ دیکھی گئی طاقت‘ سے جواب دے گا۔ نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کی انٹیلی جنس نے حملے کی رہنمائی کی تھی، جس میں یہ معلومات شامل تھی کہ خامنہ ای اعلیٰ ایرانی اہلکاروں کی ایک میٹنگ میں شرکت کریں گے۔
روس اور خطے کی قیادت کا موقف
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خامنہ ای کے قتل کو ’سنگدلانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کی تمام حدود کی خلاف ورزی ہے۔ حماس نے بھی شہادت پر غم کا اظہار کرتے ہوئے حملے کو ’وحشیانہ‘ قرار دیا ہے۔
ایران کی طرف سے وعدہ انتقام
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینا اسلامی جمہوریہ ایران کا قانونی حق اور فرض ہے۔ ایرانی سیکیورٹی چیف نے امریکہ اور اسرائیل کو انتباہ جاری کیا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
دبئی کے جبل علی پورٹ سے دھواں اٹھنے کی اطلاعات ہیں جسے ایران کے ممکنہ جوابی حملے سے جوڑا جا رہا ہے۔ بحران کے پیش نظر پاکستان کے خارجہ دفتر نے کرائسس مینجمنٹ یونٹ فعال کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں ایک نئے اور خطرناک دور کا آغاز ہو سکتا ہے جس کے وسیع تر عالمی اثرات مرتب ہوں گے۔

