اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کی عبوری طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور مؤثر کارروائی کرے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اس موقف کو دوٹوک انداز میں پیش کیا۔
مذاکات کا دروازہ کھلا، جنگ کا نہیں: پاکستان کا واضح پیغام
ترجمان وزارت خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نہ تو افغانستان کے ساتھ مذاکقات کا دروازہ بند کرے گا اور نہ ہی جنگ کا راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے کہا، "جنگوں میں بھی سفارت کاری جاری رہتی ہے۔ جھڑپوں کے دوران بھی سفارت کاری جاری رہتی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے افغان بھائیوں اور بہنوں کے لیے امن اور خوشحالی چاہتا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ نے پاکستان کے موقف کی تصدیق کی
اندرابی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دستاویز نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی وسیع پیمانے پر تائید کی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد گروہوں کو سازگار ماحول فراہم کرتی رہی۔
انہوں نے کہا، "رپورٹ پاکستان کے موقف کی تصدیق کرتی ہے کہ ٹی ٹی پی کی بحالی 2021 کے بعد عبوری حکومت کے اقتدار سنبھالنے سے منسلک ہے۔ لہٰذا یہ ایک اہم رپورٹ ہے، اور ہم اسے اقوام متحدہ کے متعلقہ سیکرٹریٹ اور بین الاقوامی برادری کے اراکین کے ساتھ فالو اپ کر رہے ہیں۔”
بھارت کے بیان پر سخت ردعمل
اسلام آباد میں حالیہ دھماکے کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ بیان دہشت گردی کو جواز پیش کرنے کا اشارہ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ بھارت کے اعلان کردہ موقف کے خلاف ہے کہ وہ ہر شکل میں دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے۔ ہم ان بیانات سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ بھارت ہر شکل میں دہشت گردی کی مخالفت کر سکتا ہے، لیکن جب یہ پاکستان کے خلاف ہوتی ہے تو وہ اس کی حمایت کرتا ہے۔”
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
دیگر اہم نکات
ترجمان نے دیگر امور پر بھی روشنی ڈالی:
- وزیراعظم شہباز شریف 19 فروری کو بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
- پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے آٹھ اسلامی ممالک کی اجتماعی آواز کے طور پر کام کرے گا۔
- امریکی صدر کے حالیہ بیانات پر پاکستان نے امن کے لیے امریکہ کے کردار کی تعریف کی۔
- ایران-امریکہ مذاکرات کے حوالے سے پاکستان بات چیت اور سفارت کاری کے حل کی حمایت کرتا ہے۔
- بھارت کے خلاف ٹی20 میچ کھیلنے کا فیصلہ کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھنے کے احساس کے تحت کیا گیا۔

