مانچسٹر میں سیاسی تاریخ بدل گئی: گرین پارٹی نے لیبر کے مضبوط گڑھ پر کامیابی حاصل کرلی
مانچسٹر کے گورٹن اور ڈینٹون حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں گرین پارٹی نے وزیراعظم کیر اسٹارمر کی لیبر پارٹی کو تاریخی شکست دے دی ہے۔ یہ نشست لیبر کے پاس تقریباً ایک صدی سے تھی۔
گرین پارٹی کی تاریخی فتح
گرین پارٹی کی امیدوار ہینہ اسپینسر نے 40.7 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ نائجل فراج کی ریفارم یوکے پارٹی 28.7 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے جبکہ لیبر پارٹی صرف 25.4 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔ یہ نشست سابق لیبر رکن پارلیمنٹ کے صحت کی وجوہات سے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی تھی۔
برطانوی سیاست کے لیے ‘زلزلہ خیز لمحہ’
معروف پولسٹر جان کرٹس نے اس نتیجے کو "زلزلہ خیز لمحہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ "دوسری جنگ عظیم کے بعد سے برطانوی سیاست کا مستقبل کسی بھی مرحلے سے زیادہ غیر یقینی نظر آتا ہے”۔
اسٹارمر کے لیے بڑا دھچکا
اپنی سب سے محفوظ نشستوں میں سے ایک کا نقصان وزیراعظم کیر اسٹارمر کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ یہ شکست اس وقت آئی ہے جب اسٹارمر کو گذشتہ ہفتوں میں سیاسی بحران اور استعفیٰ کے مطالبوں کا سامنا رہا۔ تاہم، لیبر ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسٹارمر کو فوری طور پر اپنے عہدے کا خطرہ نہیں ہے، لیکن انہیں مئی میں ہونے والے مقامی اور علاقائی انتخابات کے بعد چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
دو جماعتی نظام کو خطرہ
یہ پہلا موقع ہے جب گرین پارٹی، جو نیٹو سے علیحدگی اور تفریحی منشیات کی قانونی سازی کی حمایت کرتی ہے، نے شمالی انگلینڈ میں کسی پارلیمانی نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس فتح کے بعد اب گرین پارٹی کے ہاؤس آف کامنز میں کل پانچ نشستیں ہو گئی ہیں۔
قومی سطح پر، گرینز، ریفارم اور لبرل ڈیموکریٹس سمیت پانچ جماعتیں دوہرے ہندسوں میں ووٹ حاصل کر رہی ہیں، جو گزشتہ صدی کی لیبر-کنزرویٹو دوئی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

