افغان سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستان کی فیصلہ کن کارروائی، 27 چوکیاں تباہ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی جمعے کے روز ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی جب افغان طالبان حکومت کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں طالبان کی 27 فوجی چوکیاں تباہ کر دیں۔
آپریشن غضب للہق: وزیر اطلاعات کی تصدیق
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے تصدیق کی کہ آپریشن غضب للہق کے تحت پاکستان نے افغانستان کے اندر حملے کیے ہیں۔ ان کے مطابق اس کارروائی میں افغان جانب کم از کم 133 طالبان ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی کارروائی میں طالبان کے دو کور ہیڈکوارٹر، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹر، دو گولہ بارود ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹر، دو سیکٹر ہیڈکوارٹر اور 80 سے زائد ٹینک، توپ خانہ اور بکتر بند گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔
کارروائی کے اہم نقاط
پاکستانی افواج کے مطابق:
- افغان طالبان کی 27 چوکیاں تباہ کر دی گئیں جبکہ 9 چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا۔
- پکتیا علاقے میں پانچ افغان چوکیوں پر قبضہ کر کے پاکستانی پرچم لہرایا گیا۔
- پاکستانی فوج کے دو جوان شہید اور تین زخمی ہوئے۔
- جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان نے متعدد مقامات پر سفید پرچم بھی لہرا دیے۔
تاریخی پس منظر اور حالیہ تناؤ
یہ تازہ کارروائی اس وقت سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے پاکستان نے افغانستان کی سرحدی علاقوں میں 80 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے معاملے پر تنازعہ اکتوبر 2025 سے جاری ہے، جب سرحدی جھڑپوں میں 200 سے زائد طالبان اور 23 پاکستانی جوان شہید ہوئے تھے۔
دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ
پاکستان میں حالیہ ہفتوں میں اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں خودکش حملے ہوئے ہیں، جن کی ذمہ داری افغانستان میں مقیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عناصر نے قبول کی ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ اپنی پالیسی اس وقت تک برقرار رکھے گا جب تک طالبان اپنی "گوریلا ذہنیت” ترک نہیں کرتے۔
بین الاقوامی ردعمل اور مستقبل کے امکانات
دنیا بھر کی حکومتوں نے دونوں ممالک سے پرامن حل کے لیے گفت و شنید پر زور دیا ہے۔ پاکستانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ملک کی سلامتی اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ مستقبل میں سرحدی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ضروری اقدامات کی تیاری کی جا رہی ہے۔

