پی ایس ایکس میں تاریخی کمی جاری، امریکی ٹیرف اور ایران کشیدگی نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا
کراچی: عالمی اور علاقائی منفی عوامل کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو بھی تیزی سے فروخت کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں بنچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔
انڈیکس میں ڈرامائی اتار چڑھاؤ
ایس ای-100 انڈیکس میں 1,432.54 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 0.85 فیصد کا گراوٹ ریکارڈ کرتے ہوئے 166,258.54 پوائنٹس پر بند ہوا۔ تاہم، سیشن کے دوران انڈیکس میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جو 169,237.51 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد 163,907.59 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔ یہ کمی 2.26 فیصد کے برابر تھی۔
یہ گراوٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب گذشتہ روز پیر کو انڈیکس میں 5,478 پوائنٹس کی تاریخی کمی دیکھی گئی تھی۔
ماہرین کی نظر میں مارکیٹ پر دباؤ کے اسباب
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ پر منفی رجحان کی متعدد وجوہات ہیں۔ ان میں گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک کی نیلامی میں حکومتی بانڈز کی پیداوار میں اضافہ، امریکا کے نئے تجارتی ٹیرفز کا نفاذ، ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور آئی ایم ایف کی تیسری جائزہ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔
عارف حبیب کاموڈیٹیز کے منیجنگ ڈائریکٹر احسن مہنتی کا کہنا تھا کہ "امریکی تجارتی ٹیرفز کی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی سیاسی بحران اور آئی ایم ایف مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے خدشات نے پی ایس ایکس پر منفی سرگرمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔”
امریکی ٹیرفز کا نیا نظام
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے تجارتی ایجنڈے کو ازسرنو تعمیر کرنے کے اقدام کے بعد منگل سے درآمدی اشیا پر نئے امریکی ٹیرفز نافذ العمل ہو گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد یہ اقدام سامنے آیا تھا۔ نئی ڈیوٹیز ابتدائی طور پر 10 فیصد مقرر کی گئی ہیں، جو امریکا کے ادائیگیوں کے توازن میں خسارے کے جواب میں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے انہیں 15 فیصد تک بڑھانے کا اشارہ دیا ہے۔
ایران-امریکا تعلقات میں کشیدگی
عالمی سطح پر صورتحال اس وقت اور کشیدہ ہو گئی ہے جب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے نہیں پاتا تو وہ "10 یا 15 دنوں” میں حملے کا فیصلہ کریں گے۔ ایک رپورٹ کے مطابق انہیں فوجی اختیارات پیش کیے گئے ہیں جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر براہ راست حملہ بھی شامل ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان دو دور کی غیر براہ راست بات چیت ہو چکی ہے اور تیسرے دور کا آغاز جمعرات سے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا ہے۔
معاشی اشاروں کا جائزہ
اس دوران پاکستان کے معاشی اشاریوں میں جنوری کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 121 ملین ڈالر رہا، جو مضبوط ریمٹینس اور کم درآمدات کا نتیجہ تھا۔ تاہم، مالی سال 2026 کے پہلے سات مہینوں میں مجموعی خسارہ 1.07 ارب ڈالر رہا۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق حساس قیمتی اشاریہ (ایس پی آئی) میں ہفتہ وار افراط زر 1.16 فیصد بڑھ کر 335.67 ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عالمی اور علاقائی صورتحال میں استحکام آنے تک مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت برقرار رہنے کا امکان ہے۔

