احمد شہزاد کا بھارتی ٹیم پر تنقیدی تبصرہ: ’اتحاد کی کمی ہی بڑی شکست کی وجہ بنی‘
پاکستانی کرکٹر احمد شہزاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں بھارت کی 76 رنز سے ہونے والی شرمناک شکست کی بنیادی وجہ ٹیم میں اتحاد کی کمی ہے۔
بھارت کا 12 میچوں پر مشتمل جیتوں کا سلسلہ ٹوٹا
احمد آباد میں اتوار کو کھیلے گئے گروپ 1 سپر ایٹ کے افتتاحی میچ میں جنوبی افریقہ نے بھارت کی 12 میچوں پر مشتمل جیتوں کے سلسلے کو ختم کرتے ہوئے فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ اس شکست کے بعد سابق پاکستانی اوپنر احمد شہزاد نے بھارتی ٹیم کی کارکردگی پر سخت تنقید کی۔
’روہت اور ویرات کے دور والا اتحاد نظر نہیں آتا‘
جیو نیوز کے پروگرام ’ہارنا منا ہے‘ میں بات کرتے ہوئے احمد شہزاد نے کہا، "یہ ٹیم متحد نظر نہیں آتی۔ روہت شرما اور ویرات کوہلی کے دور میں جو اتحاد ان کی طاقت تھا، وہ اب نظر نہیں آ رہا، اسی لیے انہیں اتنے بڑے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔”
باؤلنگ اٹیک اور کپتانی پر اٹھائے گئے سوالات
شہزاد نے بھارتی باؤلنگ اٹیک پر بھی سوالیہ نشان لگایا۔ ان کا کہنا تھا، "انہیں شووم دوبے کے اوورز کروانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ گوتم گمبھر اور سوریا کمار کی یہ حکمت عملی میرے سمجھ سے بالاتر ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، "اگرچہ جمبوا بومرا نے آخر میں حالات سنبھال لیے، ورنہ اسکور بہت زیادہ ہو جاتا۔ لیکن درمیان میں جب چھکے لگ رہے تھے، تو ان کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا۔”
کپتان سوریا کمار کی باڈی لینگویج پر تنقید
احمد شہزاد نے کپتان سوریا کمار یادو کی باڈی لینگویج پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا، "سوریا کمار یادو کپتان ہیں، لیکن ان کے ہاتھ اوپر اٹھے ہوئے تھے۔ آپ چہرے اور آنکھوں کی وہ پریشانی جانتے ہیں؟ ان کے ہاتھ اور پیر سوجنے لگے تھے۔”
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "ایک لیڈر کی باڈی لینگویج ’ہار نہیں مانوں گا‘ والی ہونی چاہیے۔ لیکن جیسے جیسے چھکے لگ رہے تھے، سوریا بھی ان کے ساتھ ڈوبتا جا رہا تھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے وہ گیند پکڑنے کے لیے اڑنا چاہتے ہیں۔”
ٹیم سلیکشن پر گمبھر سے سوالات
شہزاد نے واضح کیا کہ مسئلہ صرف کپتانی کا نہیں بلکہ ٹیم کے انتخاب کا بھی ہے۔ انہوں نے کہا، "مسئلہ سوریا کا نہیں ہے۔ گوتم گمبھر اور سوریا کی ساتھ کھیلی جانے والی ٹیم کے ساتھ وہ پھنس جائیں گے، جیسے آج پھنس گئے۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا: صرف ایک اور میچ۔ اور اگلا میچ کس کے خلاف ہے؟ انہوں نے ایک ’کمزور‘ ٹیم سے ہارا ہے—اگلا میچ زمبابوے کے خلاف ہے۔”
ان کا مؤقف تھا کہ یہ ٹیم گوتم گمبھر نے منتخب کی ہے اور کسی مضبوط ٹیم کے خلاف یہ کمبینییشن مشکلات کا شکار ہوگی۔

