# مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے رہنے کا پاکستان کو سامنا
عالمی معیشت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انقلاب نے صنعتی مسابقت کے نئے معیارات قائم کر دیے ہیں، جس میں پاکستان پیچھے رہ جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کے برعکس، پاکستان تحقیق و ترقی میں کم سرمایہ کاری، معیاری تعلیم کے فقدان اور ساختی اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے اس دوڑ میں شامل ہونے سے قاصر ہے۔
## اے آئی انقلاب اور ایشیائی ردعمل
2015 میں اوپن اے آئی کی بنیاد رکھنے والی سان فرانسسکو میٹنگ نے ذہانت کو صنعتی پیمانے پر متعارف کرانے کا آغاز کیا تھا۔ اینویڈیا کے چیئرمین جینسن ہوانگ کی قیادت میں جی پی یو ٹیکنالوجی نے اس انقلاب کو ممکن بنایا۔ چاٹ جی پی ٹی کے عوامی سطح پر آنے کے بعد مصنوعی ذہانت تاریخ کی تیز ترین شرح سے مقبول ہوئی۔
ایشیائی ممالک نے فوری طور پر اسے قومی ترجیح بنایا۔ بھارت نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور آئی ٹی سروسز، ویتنام نے اسمارٹ مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین میں ٹیکنالوجی، جبکہ چین نے سیمی کنڈکٹر اور صنعتی آٹومیشن پر توجہ مرکوز کی۔
## پاکستان میں تحقیق و ترقی اور تعلیم کا بحران
عالمی رجحانات کے برعکس، پاکستان کا قومی بیانیہ سیاسی معاملات میں الجھا رہا۔ ملک کا تحقیق و ترقی پر خرچ جی ڈی پی کا محض 0.16 فیصد ہے، جو عالمی معیار کے لحاظ سے انتہائی کم ہے۔ گلوبل انوویشن انڈیکس میں پاکستان نہ صرف بھارت اور چین سے بلکہ بنگلہ دیش اور ویتنام سے بھی پیچھے ہے۔
ایس ٹی ای ایم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، میتھ) گریجویٹس کی کثیر تعداد کے باوجود، معیاری تربیت کا نظام صرف چند اداروں جیسے کہ نیڈ، گیکی، لمس اور فاسٹ تک محدود ہے، جس سے ہنر مند افرادی قوت میں شدید کمی ہے۔
### برآمدی شعبوں پر منفی اثرات
ماہرین کے مطابق، یہ کمزوریاں پاکستان کے اہم برآمدی شعبوں کو براہ راست متاثر کر رہی ہیں۔
**ٹیکسٹائل انڈسٹری:** جو ملک کی برآمدی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے، وہ آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت پر چلنے والی جدید سپلائی چینز کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ ویتنام اسمارٹ مینوفیکچرنگ اپنا رہا ہے جبکہ بھارت ٹیکنالوجی کے ذریعے ویلیو چین میں اوپر جا رہا ہے۔ پاکستان کا یہ شعبہ توانائی کے بحران اور ٹیکنالوجی میں کم سرمایہ کاری کی وجہ سے مسابقت کھو رہا ہے۔
**آئی ٹی برآمدات:** بھارت کا آئی ٹی سیکٹر مصنوعی ذہانت کے اوزاروں کو بڑے پیمانے پر اپنا رہا ہے۔ ویتنام مربوط پالیسیوں کے ذریعے خود کو ٹیکنالوجی آؤٹ سورسنگ کا مرکز بنا رہا ہے۔ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر، اگرچہ کچھ شاندار کارکردگی دکھا رہا ہے، مگر مصنوعی ذہانت کے محدود استعمال اور انفراسٹرکچر کی کمیوں کی وجہ سے جمود کا شکار ہو سکتا ہے۔
## آئی ایم ایف پروگرام اور طویل مدتی حکمت عملی کا فقدان
معاشی پالیسی کے مباحثے اکثر آئی ایم ایف پروگراموں کے گرد گھومتے ہیں۔ ماہرین معاشیات کا مؤقف ہے کہ یہ پروگرام بنیادی طور پر قرض دہندگان کے تحفظ کے لیے ہوتے ہیں اور طویل مدتی صنعتی مسابقت یا ساختی تبدیلی کے لیے کوئی فریم ورک فراہم نہیں کرتے۔
### مستقبل کے ممکنہ خطرات
تجزیہ کے مطابق، پاکستان کے لیے اصل خطرہ اچانک زوال نہیں بلکہ مستقل ساختی کٹاؤ ہے، جس میں ٹیکسٹائل کی مسابقت میں بتدریج کمی، آئی ٹی برآمدات میں جمود، اور وسیع تر ٹیکنالوجیکل فرق شامل ہیں۔ یہ عوامل سست برآمدی ترقی اور کرنسی پر دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔
نتیجتاً، 2015 سے 2025 کا عرصہ وہ دور قرار دیا جا رہا ہے جب ذہانت ایک بنیادی صنعتی ڈھانچہ بن گئی۔ تجزیہ کاروں کا اصرار ہے کہ پاکستان کو سیاسی بیانیوں سے بالاتر ہو کر ٹیکنالوجیکل گہرائی، کمپیوٹنگ تک رسائی اور اداراتی توجہ پر فوری کام شروع کرنا ہوگا، ورنہ مسابقت کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا خطرہ برقرار رہے گا۔

