امریکہ اور بھارت کے درمیان وینزویلا کے تیل کی فروخت پر مذاکرات، تجارتی معاہدے کی شرائط واضح
نئی دہلی: امریکہ نے بھارت کو روسی خام تیل کے متبادل ذرائع فراہم کرنے کے لیے وینزویلا کے تیل کی فروخت پر "فعال مذاکرات” کا اعلان کیا ہے۔ امریکی ایلچی برائے بھارت، ایرک گارسیٹی، کے مطابق، امریکہ نے بھارت سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر محصولات میں کمی کی پیشکش کو روسی تیل سے انحراف سے مشروط بنایا ہے۔
تجارتی معاہدے کی شرط اور تیل کا مسئلہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ بھارتی مصنوعات پر محصولات 18 فیصد تک کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ امریکی ایلچی کے مطابق، یہ فیصلہ اس شرط پر کیا گیا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کرے، جسے امریکہ یوکرین پر روسی حملے کی مالی معاونت قرار دیتا ہے۔ گارسیٹی کا کہنا تھا کہ بھارت اب امریکہ اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے زیادہ تیل خریدے گا۔
توانائی کے محکموں کے درمیان براہ راست بات چیت
امریکی ایلچی نے نئی دہلی میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "محکمہ توانائی یہاں وزارت توانائی سے بات چیت کر رہا ہے، اور ہمیں امید ہے کہ اس بارے میں جلد ہی کچھ خبریں ملیں گی۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت کے ساتھ حتمی تجارتی معاہدہ "جلد از جلد” طے پا جائے گا۔
بھارتی ریفائنریوں کی جانب سے وینزویلا کے تیل کے آرڈر
رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے گزشتہ ماہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ سپلائی معاہدے کے بعد تجارتی اداروں کو وینزویلا کے لاکھوں بیرل تیل کی مارکیٹنگ اور فروخت کی اجازت دی تھی۔ اس اقدام کے بعد بھارتی ریفائنریوں نے وینزویلا کے تیل کے آرڈر دینا شروع کر دیے ہیں۔
ریاستی اداروں انڈین آئل کارپوریشن، ہندوستان پیٹرولیم اور بھارت پیٹرولیم کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹر کی ریفائنریز ریلائنس انڈسٹریز اور نایارا انرجی نے بھی وینزویلا کے تیل کے آرڈر دیے ہیں۔ یہ اقدام بھارت کی تیل کی درآمدات میں تنوع لانے کی امریکی کوششوں کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔
امریکی موقف: روسی تیل سے مکمل انحراف
ایلچی ایرک گارسیٹی نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا، "تیل کے معاملے پر ایک معاہدہ ہو چکا ہے… ہم نے بھارت کو اپنے تیل کے ذرائع میں تنوع لاتے دیکھا ہے۔ یہ عہد موجود ہے۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی روسی تیل خریدے۔” روس پر 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد بھارت روسی بحری تیل کا سب سے بڑا گاہک بن گیا تھا۔
معاہدے کے نفاذ کی تیاریاں
بھارتی وزیر تجارت پیوش گویل نے جمعے کو کہا کہ انٹرم تجارتی معاہدہ اپریل سے مؤثر ہوگا، اور امریکہ اس ماہ بھارتی مصنوعات پر محصولات کم کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔ امریکی ایلچی نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ کو بھارت آنے کی دعوت دی ہے۔

