پنجاب حکومت کے 11 ارب روپے کے نجی جہاز کے حصول پر پی ٹی آئی کی شدید تنقید
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب حکومت پر 38 سے 42 ملین ڈالر (تقریباً 11 ارب روپے) مالیت کے ایک لگژری نجی جہاز کے حصول کی اطلاعات پر سخت تنقید کی ہے۔ پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس اقدام کو عوامی افسردگی اور معاشی بحران کے دور میں ’شاہانہ اخراجات‘ قرار دیا ہے۔
معاشی بحران اور شاہانہ اخراجات پر احتجاج
شیخ وقاص اکرم نے سماجی میڈیا پر وائرل ہونے والی اطلاعات کے جواب میں ایک بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک ریکارڈ بے روزگاری، انتہائی مہنگائی اور گرتی ہوئی معیشت کے بحران کا شکار ہے اور حکومت عوامی سطح پر معیشت کی بچت کا پرچار کر رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا، "کیسے ایک حکومت ایک اعلیٰ درجے کے وی آئی پی جیٹ پر بے تحاشہ رقم خرچ کرنے کو جواز بنا سکتی ہے، جب کہ 45 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ملک غیر ملکی قرضوں اور بڑے پیمانے پر ادھار پر زندہ ہے؟”
احتساب اور عوامی خزانے کے تحفظ کا مطالبہ
پی ٹی آئی کے ترجمان نے واضح کیا کہ عوام عوامی فنڈز کو ذاتی عیاشی پر ضائع ہونے برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس قسم کے لاپرواہانہ اخراجات حکومت کی عوامی مشکلات سے دوری کو ظاہر کرتے ہیں اور شہریوں کے دکھوں کے لیے بے حسی کا عکاس ہیں۔ انہوں نے قومی خزانے کے غلط استعمال کے ذمہ داروں کے خلاف مکمل احتساب کا مطالبہ کیا۔
عمران خان کی صحت پر تشویش اور شفافیت کا مطالبہ
اسی بیان میں شیخ وقاص اکرم نے سابق وزیراعظم اور پارٹی چیئرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ذاتی معالجین کو فوری اور غیر مشروط رسائی فراہم کی جائے تاکہ تمام ضروری طبی معائنے بغیر کسی تاخیر کے کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا، "اگر حکومت کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے، تو مکمل شفافیت میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے ذاتی معالجین کو فوری رسائی دی جائے تاکہ تمام ضروری طبی معائنے، بشمول خون کے ٹیسٹ اور دیگر تشخیصی عمل، کیے جا سکیں۔”
انسانی حقوق اور حکومتی ذمہ داری کا مسئلہ
بیان میں زور دیا گیا کہ عمران خان کے معاملے کا تعلق محض سیاست سے نہیں بلکہ یہ قومی اعتماد، انسانی حقوق اور حکومتی ذمہ داری کا امتحان ہے۔ پارٹی نے کہا کہ لاکھوں افراد کے اعتماد کے حامل رہنما کی صحت کے حوالے سے کوئی ابہام ناقابل قبول ہے اور حکومت کی خاموشی نے عوامی بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔
شیخ وقاص نے کہا کہ اگر کوئی اسکین یا خصوصی تشخیص درکار ہو تو عمران خان کو اپنی پسند کے ہسپتال لے جانے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کو واضح، تصدیق شدہ اور غیر مبہم طبی حقائق فراہم کرے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ مزید کوئی تاخیر قابل قبول نہیں ہوگی۔

