ملک میں غربت کی شرح چھ سال میں 6.9 فیصد اضافے کے ساتھ 28.8 فیصد تک پہنچ گئی
اسلام آباد: سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں غربت کی شرح گذشتہ چھ سال کے دوران 6.9 فیصد بڑھ کر 28.8 فیصد ہو گئی ہے۔ 2018-19 میں یہ شرح 21.9 فیصد تھی۔
صوبائی سطح پر تشویشناک صورتحال
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غربت میں یہ اضافہ تمام صوبوں میں دیکھا گیا ہے، تاہم پنجاب اور سندھ میں صورت حال خاصی سنگین ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق تین آئی ایم ایف اسٹیبلائزیشن پروگرامز، کووڈ-19 کے معاشی اثرات، اشیائے صرف کی بلند قیمتیں، افراط زر، کم جی ڈی پی گروتھ، دو سپر سیلاب اور گندم کی سپورٹ قیمت ختم کرنے جیسے عوامل نے اس اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
حکومتی کمیٹی کی رپورٹ
منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کے زیر انتظام تشکیل دی گئی 17 رکنی ہائی پاورڈ پاورٹی ایسٹیمیشن کمیٹی، جس کی سربراہی ڈاکٹر جی ایم عارف نے کی، نے اپنی سفارشات حکومت کو جمع کرا دی ہیں۔ حکومت غربت کا تخمینہ لگانے کے لیے کاسٹ آف بیسک نیڈز (سی بی این) کے طریقہ کار کو استعمال کرتی ہے۔
شہری اور دیہی علاقوں کا فرق
گزشتہ اعداد و شمار کے مطابق 2018-19 میں شہری علاقوں میں غربت کا تناسب 11 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 28.2 فیصد تھا۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہ رجحان الٹ گیا ہے اور غربت میں تیزی سے اضافہ درج کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 2005-06 میں ملک میں غربت کی شرح 50.4 فیصد تھی جو 2018-19 میں کم ہو کر 21.9 فیصد رہ گئی تھی۔
مزید اعداد و شمار کا اعلان متوقع
حکومت لیبر فورس سروے بھی مکمل کر چکی ہے جس کے جلد جاری ہونے کی توقع ہے۔ یہ سروے روزگار اور بے روزگاری کی صورتحال پر مزید روشنی ڈالے گا۔ منصوبہ بندی کے وزیر سے توقع ہے کہ وہ 2024-25 کے لیے سرکاری غربت کے حتمی اعداد و شمار جاری کریں گے۔

