# بالٹک سمندر کی تاریخی کم سطح نے سٹاک ہوم میں 400 سال پرانا جنگی جہاز منظر عام پر لے آیا
سٹاک ہوم کے مرکز میں، بالٹک سمندر کی ریکارڈ کم سطح نے ایک غیر معمولی تاریخی دریافت کو ممکن بنا دیا ہے۔ 17ویں صدی کا ایک سویڈش جنگی جہاز کا ڈھانچہ، جو عام طور پر پانی کے نیچے ہوتا ہے، اب واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔
## 140 سال میں چھٹی بار ریکارڈ ٹوٹا
فروری کے آغاز سے، مسلسل چلنے والی مشرقی ہواؤں نے بالٹک سمندر کے پانی کو شمالی سمندر اور بحر اوقیانوس کی طرف دھکیل دیا ہے۔ لینڈسورٹ-نورا پیمائش اسٹیشن پر سمندر کی سطح عام اوسط سے 67 سینٹی میٹر سے زیادہ کم ریکارڈ کی گئی۔ یہ 1886 سے جاری ریکارڈ میں سب سے کم سطح ہے۔
لیبنز انسٹی ٹیوٹ برائے بالٹک سمندر ریسرچ کے مطابق، اس وقت سمندر میں معمول کے مقابلے میں 275 مکعب کلومیٹر پانی کم ہے۔ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق، 1886 سے اب تک صرف پانچ مواقع پر ایسی انتہائی کم سطحیں دیکھی گئی ہیں، یہ چھٹا واقعہ ہے۔
## آثار قدیمہ کے لیے نایاب موقع
یہ جنگی جہاز کاسٹیل ہولمین جزیرے کے قریب پایا گیا ہے۔ سٹاک ہوم کے وراک میوزیم کے ماہر آثار قدیمہ جم ہینسن کے مطابق، سویڈش بحریہ نے یہ جہاز تقریباً 1640 میں جان بوجھ کر ڈبو دیا تھا تاکہ اسے ایک پل کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ بالٹک سمندر کے خاص ماحول، جہاں لکڑی کھانے والے کیڑے موجود نہیں ہیں، نے اس ڈھانچے کو چار صدیوں تک محفوظ رکھا۔ اگرچہ یہ جہاز 2013 میں بھی جزوی طور پر نظر آیا تھا، لیکن موجودہ نمائش اس سے کہیں زیادہ واضح اور مکمل ہے۔
## سائنسدانوں کی پیش گوئی: سمندری نظام میں بڑی تبدیلی
ماہرین اس تاریخی دریافت سے زیادہ آنے والے موسمی اور ماحولیاتی واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سمندر کی موجودہ انتہائی کم سطح شمالی سمندر سے نمکین پانی کے بڑے بہاؤ کے لیے مثالی شرائط پیدا کر رہی ہے۔
محققین کے مطابق، اگر ہوائیں اگلے چند دنوں میں تبدیل ہو کر مغربی رخ اختیار کر لیتی ہیں، تو 80 سے 90 فیصد امکان ہے کہ بالٹک سمندر میں آکسیجن سے بھرپور ٹھنڈے نمکین پانی کی بڑی مقدار داخل ہو جائے گی۔ یہ بہاؤ سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
یہ موسمیاتی واقعہ نہ صرف ایک تاریخی آثار کو منظر عام پر لایا ہے بلکہ خطے کے سمندری ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کی جانب بھی توجہ دلائی ہے، جس پر سائنسدان مسلسل تحقیق کر رہے ہیں۔

