فرانس کے مشرقی علاقے ہاٹے سون میں ایک ایسا ہولناک واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مقامی پولیس نے ایک فریزر میں دو شیر خوار بچوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد ایک خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔
کیس کا آغاز اور پہلی لاش کا انکشاف
یہ واقعہ ایلویلرز-ایٹ-لایامونٹ نامی قصبے میں پیش آیا جہاں ایک شخص نے منگل کے روز پولیس کو اطلاع دی کہ اس کے گھر کے فریزر میں ایک نوزائیدہ بچے کی لاش موجود ہے۔ فوری طور پر موقعے پر پہنچنے والی مقامی جینڈارمری نے مزید تلاشی کے دوران فریزر میں دوسرے شیر خوار بچے کی لاش بھی دریافت کر لی۔
ماں پر شبہ اور فرار
تحقیقات کے ابتدائی مراحل میں ہی یہ بات سامنے آئی کہ اس واقعے کا مرکزی ملزمہ بچوں کی ماں ہے جو واقعے کے انکشاف کے بعد بغیر کسی اطلاع کے گھر سے غائب ہو گئی تھی۔ پولیس نے فوری طور پر اس کی تلاش شروع کر دی۔
بولون-بیلانکورٹ میں گرفتاری
ذرائع کے مطابق، گرفتار ہونے والی خاتون کل نو بچوں کی ماں ہے جو دو مختلف ازدواجی تعلقات سے ہیں۔ فرانسیسی پولیس نے بدھ کی رات تقریباً ایک بجے پیرس کے مضافاتی علاقے بولون-بیلانکورٹ میں اس خاتون کو گرفتار کر لیا، جہاں اس کا ایک بیٹا رہائش پذیر ہے۔
ملکی سطح پر تحقیقات کا آغاز
واقعے کی سنگینی کے پیش نظر ویسول کے پراسیکیوٹر نے معاملے کی تحقیقات بشنکن کے پراسیکیوٹر کے حوالے کر دی ہیں۔ بشنکن کے پراسیکیوٹر سیڈرک لوگلن نے شام ساڑھے چھ بجے ایک پریس کانفرنس کا اعلان کیا ہے جو ایلویلرز-ایٹ-لایامونٹ میں شیر خوار بچے کی لاش اور دوسرے بچے کو رکھنے والے ایک بیگ کی دریافت سے متعلق ہوگی۔
مقامی ردعمل اور تحقیقاتی کارروائی
ایک ہزار سات سو آبادی والے اس قصبے کے میئر اور پہلی نائب میئر نے اس حساس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں ملزمہ کے مقامی گھر پر مہر ثبت کر چکی ہیں جبکہ لور کی تحقیقاتی بریگیڈ اور بشنکن کی تحقیقاتی سیکشن مل کر اس کیس کی تفتیش کر رہی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، دونوں لاشوں کی عمر اور ان کی موت کی وجوہات کے تعین کے لیے پوسٹ مارٹم کروایا جائے گا۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق یہ کیس ملک میں گزشتہ کئی برسوں میں اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے جس نے فرانس کے سماجی اور قانونی اداروں کے سامنے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

