ہالی وڈ میں ہلچل: بائٹ ڈانس کے نئے اے آئی ویڈیو جنریٹر نے تخلیقی حقوق کا بحران کھڑا کردیا
ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس کے تازہ ترین اے آئی ویڈیو جنریٹر ’سی ڈانس 2.0‘ نے ہالی وڈ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس نے فلمی صنعت کے پیشہ ور افراد اور اسٹوڈیوز میں تشویش اور غم و غصہ پیدا کردیا ہے۔ 12 فروری کو لانچ ہونے والے اس ٹول کے بارے میں خدشہ ہے کہ یہ اداکاروں کی شبیہ اور کاپی رائٹ شدہ مواد کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے۔
بریڈ پٹ اور ٹام کروز کی جعلی ویڈیو نے چنگاری لگائی
آئرلینڈ کے ڈائریکٹر روئیری رابنسن نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں بریڈ پٹ اور ٹام کروز کو ایک ویرانے میں کشتی لڑتے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں دونوں اداکار اپنی موجودہ عمر کے نظر آئے، حالانکہ انہوں نے آخری بار 1994 کی فلم ’انٹرویو ود اے ویمپائر‘ میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔
رابنسن نے دعویٰ کیا کہ یہ ویڈیو صرف دو لائنوں کے پرامپٹ کے ذریعے سی ڈانس 2.0 کے ساتھ بنائی گئی تھی، جس کا مقصد اس ٹول کی حیرت انگیز صلاحیتوں کو اجاگر کرنا تھا۔
ہالی وڈ کی بڑی تنظیموں کا شدید ردعمل
ہالی وڈ کی بااثر تنظیموں نے فوری طور پر اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا۔ موشن پکچر ایسوسی ایشن (ایم پی اے) اور اداکاروں کی یونین SAG-AFTRA نے اس ٹول کو دانشورانہ ملکیت کے حقوق کی ’بڑے پیمانے پر خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ بائٹ ڈانس نے صارفین کو کاپی رائٹ شدہ مواد یا اداکاروں کی شبیہ استعمال کرنے سے روکنے کے لیے ناکافی حفاظتی اقدامات کیے ہیں، اور نہ ہی متعلقہ اداکاروں سے ان کی آواز یا چہرے کے استعمال کی اجازت لی ہے۔
ڈزنی کی جانب سے قانونی نوٹس
والٹ ڈزنی کمپنی نے بائٹ ڈانس کو ایک قانونی نوٹس بھیج کر الزام لگایا ہے کہ سی ڈانس 2.0 کی اے آئی کو ڈزنی، مارول اور اسٹار وارز کے کرداروں کی چوری شدہ تصاویر سے ’ٹرین‘ کیا گیا ہے۔
ڈزنی کے ترجمان کے مطابق، ٹول کے ذریعے تخلیق کردہ تصاویر میں پکسل لیول کی درستگی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ محض اتفاقی مشابہت نہیں، بلکہ اس ٹول نے براہ راست ان کے کٹیلاگ سے مواد استعمال کیا ہے۔
اے آئی اور تخلیقی صنعتوں کے درمیان جاری جنگ
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اے آئی ویڈیو جنریشن ٹولز نے ہالی وڈ کو پریشان کیا ہے۔ گزشتہ سال اوپن اے آئی کے ’سورا 2‘ ٹول کے بعد بھی اسی قسم کے تنازعات سامنے آئے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈزنی نے دسمبر 2025 میں اوپن اے آئی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس میں 200 کردار استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی گئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سی ڈانس 2.0 کا معاملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جب ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالی مفادات سامنے آتے ہیں تو تخلیقی حقوق اور اداکاروں کے تحفظ کے معاملات پیچھے رہ جاتے ہیں۔ توقع ہے کہ ہالی وڈ اور ٹیکنالوجی دیوہیکل کمپنیوں کے درمیان یہ کشمکش آنے والے مہینوں میں اور شدت اختیار کر سکتی ہے۔

