میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے فورم پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے یورپی یونین کو نشانہ بنانے والی تنقید اور تضحیک آمیز رویوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یورپ کو ایک "مثال” قرار دیتے ہوئے اس پر ہونے والے حملوں کو مسترد کر دیا۔
یورپ کو ‘بوڑھا اور سست’ کہنے والوں کو للکار
اپنے خطاب میں صدر میکرون نے کہا، "یورپ کو ایک بوسیدہ، سست اور منقسم ڈھانچے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسے ضرورت سے زیادہ ریگولیٹڈ معیشت اور ایسے معاشرے کے طور پر دکھایا جاتا ہے جو اپنی روایات کھو رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، "اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ بعض حلقے اسے ایک جابرانہ براعظم قرار دیتے ہیں جہاں آزادی اظہار نہیں۔ ہمیں اس کے برعکس یورپ پر فخر ہونا چاہیے۔”
میکرون کا یورپی طاقت پر یقین
فرانسیسی صدر نے اپنے موقف میں واضح کیا کہ یورپ اندرونی طور پر مضبوط ہے اور اسے مزید طاقتور بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ایسا یورپ ہمارے اتحادیوں، خاص طور پر امریکہ کے لیے ایک بہتر دوست ثابت ہو سکتا ہے۔”
ونس کے متنازع بیانات کا پس منظر
صدر میکرون کا یہ خطاب گزشتہ سال اسی کانفرنس میں امریکی نائب صدر جے ڈی ونس کے بیانات کے براہ راست جواب میں سمجھا جا رہا ہے۔ ونس نے یورپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں روس یا چین سے زیادہ "یورپ کا اپنی بنیادی اقدار سے پیچھے ہٹنا” خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
ٹرمپ دور میں تعلقات میں کشیدگی
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد سے امریکی انتظامیہ کی یورپ مخالف پوزیشنز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ کشیدگی محض سفارتی اختلاف سے آگے بڑھ کر ایک نظریاتی اور اسٹریٹجک تقسیم کی نشاندہی کرتی ہے۔
میونخ کانفرنس کا یہ تبادلہ خیال یورپ اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے نظریاتی فرق کو واضح کرتا ہے، جس میں فرانس یورپی خودمختاری اور وقار کے دفاع میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
