صدر میکرون کا الزام: ’لا فرانس انسومیز‘ انتہائی بائیں بازو کی جماعت، یہودی دشمنی پنپ رہی ہے
صدر فرانس ایمانوئل میکرون نے سیاسی مخالفین کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ’لا فرانس انسومیز‘ (ایل ایف آئی) کو ایک ’انتہائی بائیں بازو‘ کی تحریک قرار دیا ہے جس کے اندر ’یہودی دشمن بیانات‘ سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے بیانات کا ’ہر صورت مقابلہ کیا جانا چاہیے‘۔
ریڈیو انٹرویو میں متنازعہ درجہ بندی
صدر میکرون نے یہ بات ریڈیو جے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی جو اتوار 15 فروری کو نشر کیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ یہ کہنے میں کوئی خاص راز نہیں کہ وہ انتہائی بائیں بازو پر ہیں۔‘‘ یہ درجہ بندی حال ہی میں وزارت داخلہ نے بھی کی ہے، جسے ایل ایف آئی نے مسترد کر دیا ہے۔
جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام
صدر نے مزید کہا، ’’میں مشاہدہ کرتا ہوں کہ ان کی اختیار کردہ پوزیشنوں میں، خاص طور پر یہودی دشمنی کے معاملے پر، وہ جمہوریہ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ یہودی دشمن بیانات کا مقابلہ ’’خواہ وہ کہیں سے بھی آئیں‘‘ کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے دائیں بازو کی جماعت ’راسیں بلے نیشنل‘ (آر این) کے اندر بھی کچھ ارکان پارلیمان کی جانب سے اسی قسم کے بیانات دینے کا ذکر کیا۔
ایل ایف آئی کے کوآرڈینیٹر کی شدید تنقید
لا فرانس انسومیز کے کوآرڈینیٹر، مینوئل بومپارڈ نے صدر میکرون کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’صدر جمہوریہ کا کام اپنے سیاسی مخالفین کو درجہ بندی کرنا نہیں ہے‘۔
بومپارڈ نے الزام لگایا کہ صدر ’ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح رویہ اپنا رہے ہیں—اگر آپ ان سے متفق نہیں ہیں تو آپ انتہا پسند ہیں‘۔ انہوں نے یہودی دشمنی کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’لا فرانس انسومیز کے کسی بھی کارکن کو کبھی یہودی دشمنی کے جرم میں سزا نہیں ہوئی‘۔
یہودی دشمنی کے خلاف نئے قانون کا اعلان
صدر میکرون نے گذشتہ جمعہ نوجوان یہودی ایلان حلیمی کی یاد میں منعقدہ تقریب کے موقع پر ’یہودی دشمن ہائیڈرا‘ کی مذمت کی تھی۔ انہوں نے یہودی دشمن، نسل پرستانہ اور امتیازی اقدامات کے مرتکب منتخب عہدیداروں کے لیے ’لازمی نااہلیت کی سزا‘ کا مطالبہ کیا تھا۔
ریڈیو جے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا، ’’حکومت ایسا بل پیش کرے گی،‘‘ اور یقین دلایا کہ یہ قانون پارلیمنٹ سے منظور ہو کر 2027 سے پہلے نافذ ہو جائے گا۔
قانونی کارروائی اور سیاسی ردعمل
یورپی پارلیمنٹ کی ایل ایف آئی رکن، ریما حسن کے معاملے پر بات کرتے ہوئے—جن کے خلاف پیرسین کے ایک صحافی کو نشانہ بنانے والے ایک پیغام پر مقدمہ درج کیا گیا—صدر میکرون نے کہا کہ ’عدالتی سرکلرز جاری کیے گئے ہیں جو ہر قسم کی یہودی دشمنی اور بیانات کے خلاف ہیں۔ اور ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔‘
انہوں نے قانون کی حکمرانی پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’ہمیں آئین کو اڑانا نہیں چاہیے۔‘‘
دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے ردعمل
دی رپبلکنز پارٹی کے سربراہ برونو ریٹائیلو نے صدر میکرون کے بیانات پر فوری طور پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ’غلط ہیں‘ کیونکہ ’فرانس کو تبدیلی کی ضرورت ہے‘۔
ریٹائیلو نے صدر میکرون کو ’ایک ساکن فرانس کا وکیل‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے ملک میں اصلاحات ناکام بنا دیں اور چاہتے ہیں کہ 2027 کے بعد بھی کچھ نہ بدلے۔

