سابق امریکی صدر بارک اوباما نے گزشتہ ہفتے ایک پوڈ کاسٹ میں موجودہ سیاسی ماحول پر سخت تنقید کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی ایک متنازع ویڈیو کو ‘مسخرہ پن’ اور امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے آپریشنز کو ‘آمرانہ ممالک جیسے اقدامات’ قرار دیا ہے۔
سیاسی گفتگو کی تنزلی پر تشویش
کم ہی میڈیا میں نظر آنے والے سابق صدر نے بائیں بازو کے سیاسی مبصر برائن ٹائلر کوہن کے پوڈ کاسٹ میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں سیاسی مکالمے کی کیفیت ‘پریشان کن’ حد تک گر چکی ہے۔ انہوں نے فروری کے آغاز میں ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر ہونے والی اس ویڈیو کا حوالہ دیا جس میں اوباما جوڑے کو بندروں کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
اوباما نے واضح نام لیے بغیر کہا، "اکثریت اس رویے کو گہرائی سے پریشان کن سمجھتی ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن پر ایک قسم کا ‘مسخرہ پن’ دکھایا جا رہا ہے۔ پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ عہدے کے احترام، شائستگی اور معقولیت کا مظاہرہ ہونا چاہیے، لیکن اب وہ چیز ختم ہو چکی ہے۔”
آئی سی ای کے طریقوں پر سخت تنقید
اسی انٹرویو میں اوباما نے مینیسوٹا کے شہر منیاپولس میں آئی سی ای اور بارڈر پیٹرول کے آپریشنز پر خاصی سخت تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا، "وفاقی حکومت کے اہلکاروں کا یہ بگڑا ہوا رویہ انتہائی تشویشناک اور خطرناک ہے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو ہم نے ماضی میں آمرانہ ممالک اور ڈکٹیٹرشپس میں دیکھے ہیں۔”
گزشتہ دسمبر سے ہزاروں کی تعداد میں اکثر منہ ڈھانپے ہوئے وفاقی اہلکاروں نے مہاجرین کے خلاف چھاپے مارے اور گرفتاریاں کی ہیں، جس کی وجہ سے اس ڈیموکریٹک گڑھ کے بہت سے شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
شہری مزاحمت کو سراہا
اوباما نے جنوری میں بھی آئی سی ای کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے شہریوں سے بنیادی اقدار کے تحفظ کی اپیل کی تھی۔ پوڈ کاسٹ میں انہوں نے ان آپریشنز کے خلاف ہونے والی مزاحمت کو سراہا۔
انہوں نے کہا، "یہ عام شہری ہیں جو منظم طریقے سے کہہ رہے ہیں: ‘یہ وہ امریکہ نہیں ہے جس پر ہمیں یقین ہے، اور ہم پرامن مظاہروں، کیمرے اور سچائی کے ذریعے مزاحمت کریں گے۔’ منفی درجہ حرارت کے باوجود عام لوگوں کی یہ بہادرانہ اور مسلسل جدوجہد ہمیں امید دیتی ہے۔”
آئی سی ای کا انخلا اور مستقبل کی لڑائی
صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی ٹام ہومین نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ مینیسوٹا میں آپریشن ختم کیا جا رہا ہے۔ تاہم ڈیموکریٹک اپوزیشن آئی سی ای کے طریقہ کار میں وسیع اصلاحات کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں ‘فلائنگ اسکواڈ’ کے خاتمے، اہلکاروں کے چہرے ڈھانپنے پر پابندی اور مہاجر کی گرفتاری سے پہلے وارنٹ حاصل کرنے کی لازمی شرط شامل ہیں۔
اسی مقصد کے تحت کانگریس میں ڈیموکریٹک قیادت نے ہوم لینڈ سیکیورٹی محکمے کے 2026 کے بجٹ کے منصوبے کی منظوری سے انکار کر دیا ہے، جس سے امیگریشن پالیسی پر سیاسی کشمکش جاری رہنے کے واضح اشارے ملتے ہیں۔

