فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے فرانکو-جرمن مستقبل کے جنگی طیارے (ایس سی اے ایف) کے منصوبے پر اپنی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنعتی اختلافات کے باوجود اس پر کام جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے اس منصوبے کو یورپی دفاعی تعاون کا ایک اہم ستون قرار دیا۔
صنعتکاروں کے اختلافات کو نظرانداز کرنے کی اپیل
صدر میکرون نے یورپی اخبارات کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زور دے کر کہا کہ ’یہ ایک اچھا منصوبہ ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میرے پاس جرمنی کی طرف سے کوئی ایسی بات نہیں آئی جو اسے اچھا منصوبہ نہ کہے۔ جب صنعتکار عدم ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہ ایک الگ بات ہے، لیکن ہمارا کام اس کی توثیق کرنا نہیں ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ جلد ہی جرمن چانسلر اولاف شولز سے اس معاملے پر مزید بات چیت کریں گے۔
مشترکہ ٹینک منصوبے سے جوڑنے کی وارننگ
صدر میکرون نے ایک اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر جرمنی اس مشترکہ جنگی طیارے کے منصوبے پر سوال اٹھاتا ہے، تو فرانس کو بھی فرانکو-جرمن مشترکہ ٹینک (ایم جی سی ایس) کے منصوبے پر نظرثانی پر مجبور ہونا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’اگر جرمن پارٹنر مشترکہ طیارے پر سوال اٹھاتا ہے، تو ہمیں مشترکہ ٹینک پر بھی نظرثانی کرنی پڑے گی۔‘ یہ بیان دونوں بڑے دفاعی منصوبوں کے باہمی انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔
یورپی دفاعی خودمختاری کا اہم سنگ میل
فیوچر کامبیٹ ایئر سسٹم (ایس سی اے ایف) منصوبہ، جس کا آغاز 2017 میں ہوا، فرانس اور جرمنی کے دفاعی تعاون کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کا مقصد 2040 تک فرانس کے موجودہ ’رافال‘ اور جرمنی و اسپین کے ’یوروفائٹر‘ طیاروں کی جگہ لینا ہے۔ یہ منصوبہ یورپ کی ازسرنے مسلح ہونے اور دفاعی خودمختاری حاصل کرنے کی وسیع تر کوششوں کا مرکزی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
قیادت اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے صنعتی کشیدگی
تاہم، اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ فرانسیسی طیارہ ساز ڈاسالٹ اوی ایشن اور جرمن ایرواسپیس کمپنی ایئربس کے درمیان صنعتی اختلافات ہیں۔ فرانسیسی کمپنی، جسے منصوبے کی مکمل قیادت سونپی گئی ہے، ٹیکنالوجی اور انتظامی امور پر زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کر رہی ہے، جو جرمن اور ہسپانوی شراکت داروں کے لیے قابل قبول نہیں۔ اس کشیدگی نے جرمن حلقوں میں متبادل شراکت داروں، جیسے کہ برطانیہ، اٹلی اور جاپان کے ساتھ ’جی سی اے پی‘ منصوبے میں شامل ہونے کی تجاویز کو بھی ہوا دی ہے۔
میکرون کا پرامید رویہ اور ماضی کا حوالہ
صدر میکرون نے موجودہ چیلنجوں کے باوجود پرامید رویہ اپناتے ہوئے اس صورتحال کا موازنہ ایریئن-6 راکٹ منصوبے سے کیا۔ انہوں نے کہا، ’ایس سی اے ایف پر جو میں تجربہ کر رہا ہوں، وہی میں نے ایریئن-6 پر کیا۔ میں ہر ہفتے سنتا تھا کہ جرمن پیسہ نہیں ڈالیں گے، سب ختم ہو گیا۔ لیکن ہم نے کر دکھایا۔‘ ان کا یہ بیان اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی قیادت صنعتی دباؤ کے باوجود اس اسٹریٹجک منصوبے کو آگے بڑھانے پر مصروف ہے۔

