اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت، خاص طور پر ان کی بینائی کے مسائل کو لے کر پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شروع کیا گیا دھرنا جمعے کے روز بھی جاری رہا، جبکہ قائد حزب اختلاف نے رمضان المبارک تک احتجاج برقرار رکھنے کی دھمکی دے دی۔
عدالتی حکم اور طبی رپورٹ میں انکشافات
پی ٹی آئی کے وکیل اور سپریم کورٹ کے مقرر کردہ امیکس کیوری سلمان صفدر نے عدالت کے حکم پر اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اور سات صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق، سابق وزیراعظم نے شکایت کی ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے پہلے ہی عمران خان کو ماہر امراض چشم تک رسائی دینے اور 16 فروری تک مکمل معائنہ کرانے کا حکم جاری کیا تھا۔
حکومتی موقف اور تشخیص
حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی طبی دیکھ بھال وقت پر کی گئی۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے سینیٹ میں بتایا کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں شکایت کے بعد جیل ڈاکٹر نے قطرے دیے، 16 جنوری کو معائنہ ہوا، 19 جنوری کو ٹیسٹ کیے گئے اور 24 جنوری کو ضروری انجیکشن لگایا گیا۔ طبی ذرائع کے مطابق، سابق وزیراعظم میں سینٹرل ریٹینل وین اکلژن کی تشخیص ہوئی ہے، جو ایک سنگین عارضہ ہے۔
قائد حزب اختلاف کا انتباہ
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے دھرنے کے مقام پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج پرامن رہے گا، لیکن انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ذاتی معالج اور خاندان والوں کو فوری طور پر ان سے ملنے دیا جائے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا، "اگر مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں اور حکومت مذاکرات سے انکار کرتی ہے، تو یہ دھرنا رمضان تک جاری رہ سکتا ہے۔”
ریڈ زون میں سیکیورٹی اور مخالفین کے دعوے
احتجاج کے پیش نظر حکام نے اسلام آباد کے ریڈ زون کی مکمل بندش کر دی ہے، جہاں پولیس کے کثیر تعداد میں اہلکار تعینات ہیں۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان حسین اخونزادہ نے الزام لگایا کہ اراکین پارلیمنٹ میں "پھنسے ہوئے ہیں” اور انہیں بنیادی سہولیات تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پی ٹی آئی کی سینیٹر فلک ناز کی صحت میں تشویشناک حد تک خرابی آئی ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی بہن علیمہ خان نے تصدیق کی کہ ان کے بھائی کی بینائی گزشتہ تین ماہ سے مسلسل دھندلا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکام عمران خان کے ذاتی معالج کو ان تک رسائی کیوں نہیں دے رہے۔ صورتحال کے پیش نظر سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

