سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکومتوں سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے والد کو 914 دن سے ’تنہائی میں قید‘ رکھا گیا ہے، جس کے دوران ان کی صحت بگڑ گئی ہے اور انہیں آزاد طبی دیکھ بھال تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔
بیٹوں کی ویزا درخواستوں پر روک کا الزام
قاسم خان اور ان کے بھائی سلیمان خان نے الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے والد سے ملنے پاکستان آنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حکومت جان بوجھ کر دسمبر 2025 میں جمع کرائی گئی ان کی ویزا درخواستوں پر عملدرآمد روکے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود انہیں مسلسل رابطے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
’ظالمانہ‘ رویے اور اجتماعی سزا کا دعویٰ
ایک بیان میں قاسم خان نے کہا کہ کسی قیدی کو ضروری طبی علاج سے محروم رکھنا ’ظالمانہ‘ ہے جبکہ بچوں کو والد سے ملنے سے روکنا ’اجتماعی سزا‘ کے مترادف ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ’ناقابل تلافی نقصان‘ ہونے سے پہلے آواز اٹھائیں اور فوری کارروائی کریں۔
حکومتی موقف اور جیل انتظامیہ کا مؤقف
ادیالہ جیل انتظامیہ کے مطابق، عمران خان کو قانون کے تحت ’بی کلاس‘ قیدیوں کی دستیاب تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان سہولیات میں خصوصی خوراک، صحت کی دیکھ بھال، مطالعہ کے مواد، ورزش اور چہل قدمی شامل ہیں۔
تاہم، پی ٹی آئی کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ حکومت نے عمران خان کی طبی حالت کی تفصیلات کئی دنوں تک چھپائی رکھیں۔ اطلاعات کے مطابق، انہوں نے حال ہی میں اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پIMS) میں آنکھ کا آپریشن کرایا تھا۔ خاندان نے عمران خان کے ذاتی معالج کی رسائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
قانونی پیچیدگیاں اور سیاسی تنازعہ
72 سالہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ ان پر متعدد مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں، جن میں توشہ خانہ کیس، سفارتی کیبل لیک کرنے کا کیس اور القادر ٹرسٹ سے متعلق بدعنوانی کا مقدمہ شامل ہیں۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ یہ قانونی چارہ جوئی سیاسی طور پر محرک ہے اور اس کا مقصد انہیں عوامی زندگی اور انتخابی عمل سے خارج کرنا ہے۔
دوسری طرف، حکومتی حلقوں کا اصرار ہے کہ تمام قانونی کارروائی آئین اور ملک کے عدالتی نظام کے دائرہ کار میں ہو رہی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کی صحت کے حوالے سے حالیہ تنازعہ پیدا ہوا ہے اور ان کی قید کے حالات پر بین الاقوامی توجہ بڑھ رہی ہے۔

