تہران نے امریکہ کے ساتھ جاری ایٹمی مذاکرات میں اپنا سخت موقف برقرار رکھتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ یورینیم افزودن کا عمل ترک کرنے پر تیار نہیں، یہاں تک کہ اگر اس پر جنگ مسلط کر دی جائے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رکھا ہے۔
مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے باوجود گہرے اختلافات
عمان میں ہونے والے پہلے دور مذاکرات کو دونوں فریقوں نے ’مثبت‘ قرار دیا ہے اور بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم، بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ ایران صرف اپنے ایٹمی پروگرام پر بات چیت کرنے کو تیار ہے، جبکہ امریکہ ایک وسیع تر معاہدے کا مطالبہ کر رہا ہے جس میں ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کی حد بندی اور خطے میں اسرائیل مخالف گروہوں کو ملنے والی حمایت ختم کرنا شامل ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا امریکہ کو للکار
ایرانی وزیر خارجہ عباس آراغچی نے ایک سخت بیان میں کہا، "یہاں تک کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کر دی جاتی ہے، تو بھی ایران صدر ٹرمپ کے یورینیم افزودن ترک کرنے کے مطالبے کے آگے نہیں جھکے گا۔” انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے عوض اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے "اعتماد سازی کے اقدامات” پر غور کر سکتا ہے۔
آراغچی نے امریکہ کی مذاکراتی "سنجیدگی” پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایران "تمام اشاروں کا جائزہ لے گا اور بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کرے گا۔” انہوں نے امریکی فوجی تعیناتی کو "خطرناک” قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ہمیں نہیں ڈراتی۔”
امریکی فوجی دباؤ اور علاقائی کشیدگی
امریکہ نے حال ہی میں خلیج میں اپنی بحری طاقت میں اضافہ کیا ہے۔ امریکی ایلچی برائے ایران اسٹیو وٹکوف نے بحری جہاز ابراہم لنکن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر ٹرمپ کے "امن اور طاقت کے پیغام” پر زور دیا۔ صدر ٹرمپ نے گذشتہ کچھ مہینوں میں ایران کے خلاف فوجی مداخلت کی کئی دھمکیاں دی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
آئندہ راستہ اور اسرائیلی ردعمل
ایرانی صدر مسعود پیشہ خیان نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ خطے کے دوست ممالک کی حمایت سے ہونے والے مذاکرات "ایک قدم آگے” ہیں۔ اگلے دور مذاکرات اگلے ہفتے کے شروع میں ہونے کی توقع ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، جو بدھ کو واشنگٹن کے دورے پر ایران کے خلاف سخت لکیر اپنانے کی وکالت کریں گے، کا مؤقف ہے کہ ایران کی بیلسٹک صلاحیتیں اور اسرائیل مخالف گروہوں کو ملنے والی حمایت "ہر قسم کی بات چیت میں شامل” ہونی چاہیے۔
اس تناؤ بھرے ماحول میں، عالمی برادری کی نظریں اگلے دور مذاکرات پر ٹکی ہوئی ہیں، جو نہ صرف ایران-امریکہ تعلقات بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

