خلیج عمان میں امریکی بحریہ کا ایرانی جہاز قبضہ، ایران نے جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا
خلیج عمان میں امریکی بحریہ نے ایک ایرانی کارگو جہاز پر فائرنگ کر کے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق، ‘توسکا’ نامی یہ جہاز ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایران نے اس کارروائی کو "مسلح قزاقی” قرار دیتے ہوئے فوری جوابی کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔
امریکی فوجی کارروائی کی تفصیلات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ ایرانی پرچم بردار جہاز ‘توسکا’ نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی۔ ایک امریکی ڈسٹرائر نے جہاز کو روکنے کا حکم دیا لیکن عملے نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد امریکی بحریہ نے جہاز کے انجن روم پر گولہ باری کر کے اسے غیر متحرک کر دیا۔ امریکی میرینز نے بعد ازاں جہاز پر چڑھائی کی اور اس پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔
امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کوم) کے مطابق، عملے کو انجن روم خالی کرنے کی تنبیہ کے بعد جہاز کے پروپلشن سسٹم کو نشانہ بنایا گیا۔ کمانڈ نے یہ بھی بتایا کہ 13 اپریل سے ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک 25 تجارتی جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا ہے یا ایران کی بندرگاہوں پر واپس بھیج دیا گیا ہے۔
ایران کا رد عمل: ‘مسلح قزاقی’ اور جواب کا وعدہ
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں اس واقعے کو تشویشناک پیشرفت قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا، "اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج جلد ہی جواب دیں گی اور اس مسلح قزاقی کے عمل اور امریکی فوجیوں کے خلاف تلافی کارروائی کرے گی۔”
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب خطے میں تناؤ پہلے ہی اپنے عروج پر ہے۔ حال ہی میں خلیج عمان اور ہرمز کے آبنائے میں جہازوں پر حملوں کی متعدد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، جہاز قبضے کا یہ نیا واقعہ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشیدہ تعلقات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے اور وسیع تر علاقائی تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔

