ایران اسرائیل جنگ کے دوران امریکہ نے روسی تیل پر پابندیوں میں چھوٹ کی مدت میں توسیع کردی
واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے روسی تیل کی پابندیوں سے متعلق ایک اہم چھوٹ کو تقریباً ایک ماہ کے لیے دوبارہ جاری رکھا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی توانائی کی قیمتوں میں استحکام لانا بتایا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی قانون ساز یوکرین جنگ جاری رکھنے پر ماسکو کے ساتھ نرم رویہ اپنانے کا حکومت پر الزام عائد کر رہے ہیں۔
چھوٹ کی نئی شرائط اور مدت
خزانہ محکمے کی جانب سے جاری کردہ اس نئی چھوٹ کے تحت دیگر ممالک 16 مئی تک روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خرید سکیں گے، بشرطیکہ وہ بحری جہاز جمعہ تک بھر چکے ہوں۔ یہ چھوٹ ایران، کیوبا اور شمالی کوریا کے ساتھ لین دین کو خارج کرتی ہے۔
خزانہ محکمے کے ایک ترجمان کے مطابق، "ایران کے ساتھ مذاکرات تیز ہونے کے ساتھ، خزانہ محکمہ یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ تیل ان تک پہنچے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔”
قیمتوں میں اضافے کے خدشات اور عالمی ردعمل
یہ اقدام انتظامیہ کی عالمی توانائی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے، جو امریکہ-اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔ ایشیائی ممالک، جو عالمی توانائی کے بحران سے متاثر ہیں، نے واشنگٹن پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ متبادل ذرائع تک مارکیٹوں کی رسائی کو ممکن بنائے۔
جنگ کے توانائی پر اثرات
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق جنگ نے تاریخ کا بدترین عالمی توانائی بحران پیدا کیا ہے۔ جنگ نے مشرق وسطیٰ میں 80 سے زائد تیل اور گیس کی سہولیات کو نقصان پہنچایا ہے۔ عالمی تیل کی قیمتیں جمعہ کو 9 فیصد گر کر 90 ڈالر فی بیرل ہو گئیں۔
سیاسی تنقید اور دباؤ
تیل کی اعلیٰ قیمتیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکنز کے لیے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک بڑا سیاسی چیلنج ہیں۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے امریکی قانون سازوں نے پابندیوں کی چھوٹ پر انتظامیہ کی سخت تنقید کی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ ایران اور روس کی معیشت کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین کا کہنا ہے کہ روس کے خلاف پابندیاں نرم کرنے کا یہ وقت نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق، جنگ نے عالمی توانائی کے بازاروں کو دیرپا نقصان پہنچایا ہے اور انہیں مستحکم کرنے کے دستیاب ذرائع تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔

