امریکی صدر ٹرمپ کی تعریف پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ، ایران معاہدے پر امیدیں
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستانی قیادت کے بارے میں "مہربان اور فراخ دلانہ” remarks کا شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ تبادلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے کے خاتمے کے لیے ثالثی کے اہم کردار میں مصروف ہے۔
ٹرمپ کی تعریف اور اسلام آباد دورے کا اشارہ
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پاکستانی قیادت بشمول وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو "شاندار لوگ” قرار دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر ایران کے ساتھ امن معاہدہ اسلام آباد میں طے پاتا ہے تو وہ خود پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔
ایران معاہدے میں پیشرفت کے دعوے
صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ہفتے کے آخر میں ملنے کا امکان ہے اور انہیں اعتماد ہے کہ معاہدہ "ایک دو دن” میں حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے تقریباً ہر شرط پر اتفاق کر لیا ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر کھول دی گئی ہے۔ یہ آبنائے عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے جسے ایران نے پہلے بلاک کر رکھا تھا۔
اسلام آباد میں ہونے والے ثلاثی مذاکرات
گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے ثلاثی مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے اپنے وفود کی قیادت کی۔ یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے جاری رہے اور درج ذیل اہم امور پر مرکوز تھے:
- آبنائے ہرمز کی بحالی
- ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امور
- تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں
اگرچہ پہلے دور کے مذاکرات میں رسمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم اسلام آباد میں اہلکاروں نے اس ملاقات کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست رابطوں کے قیام کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔ یہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے اعلیٰ سطحی ملاقات تھی۔
پاکستان کا سفارتی کردار
پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے انتھک سفارتی کوششیں کی ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا حالیہ تین روزہ دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا جس میں انہوں نے مکالمے اور تناؤ میں کمی پر زور دیا تھا۔
بین الاقوامی مبصرین پاکستان کے اس سفارتی اقدام کو خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔

