ایئر نیوزی لینڈ کا تاریخی اقدام: معیاری درجے کے مسافروں کے لیے دنیا کا پہلا ’ہوائی بیڈ روم‘
طویل پروازوں میں جگہ کی تنگی اور آرام کے مسائل کے خاتمے کے لیے ایئر نیوزی لینڈ نے ایک انقلابی سہولت متعارف کرا دی ہے۔ کمپنی نے ’اسکائی نیسٹ‘ کے نام سے ہوائی جہاز میں معیاری درجے کے مسافروں کے لیے پہلی باقاعدہ سویرے والی کیبنز لانچ کی ہیں۔
سروس کا آغاز اور تجرباتی پرواز
کمپنی کے مطابق یہ سہولت نومبر 2026 سے منتخب طویل المسافت پروازوں پر دستیاب ہوگی۔ اس کا پہلا عملی تجربہ نیویارک سے آکلینڈ تک 16 گھنٹے طویل سفر پر کیا جائے گا۔ معیاری اور پریمیم اکانومی کے مسافر اپنی سیٹ سے ہٹ کر ان کیبنز میں مکمل طور پر لیٹ کر آرام کر سکیں گے۔
’اسکائی نیسٹ‘ کیبنز کی تفصیلات
بوئنگ 787-9 طیاروں میں ایک علیحدہ حصہ مختص کیا گیا ہے جہاں چھ سویرے اوپر نیچے ترتیب دیے گئے ہیں۔ ہر بیڈ پر تکیہ، چادر، آنکھوں کی پٹی سمیت سونے کا مکمل سامان موجود ہوگا۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مسافر کی عمر 15 سال یا اس سے زائد ہونی ضروری ہے۔
بکنگ کا طریقہ کار اور اخراجات
یہ سہولت ٹکٹ کے علاوہ اضافی ادائیگی پر دستیاب ہوگی۔ ہر پرواز پر چار گھنٹے کے متعدد شیٹس ہوں گے اور ہر مسافر ایک سفر میں صرف ایک شیٹ بک کرا سکے گا۔ 18 مئی سے اس کی پہلی بکنگ شروع ہو جائے گی جبکہ عملی طور پر سروس کا آغاز خزاں 2026 میں ہوگا۔
ہوا بازی کی صنعت میں نئی دوڑ
ایئر نیوزی لینڈ واحد ایئر لائن نہیں جو معیاری درجے کے مسافروں کے لیے آرام کے نئے ذرائع تلاش کر رہی ہے۔ گزشتہ ماہ یونائیٹڈ ایئرلائنز نے بھی ’ریلیکس ناؤ‘ کے نام سے اسی قسم کی سہولت کا اعلان کیا تھا جو 2027 سے بوئنگ 787 اور 777 طیاروں میں دستیاب ہوگی۔ تاہم یہ علیحدہ کیبن نہیں بلکہ تین سیٹوں کو ملانے سے بننے والی سہولت ہوگی۔
ماہرین کا نقطہ نظر
ہوا بازی کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صنعت میں مسافروں کے آرام کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اختراعات خاص طور پر 10 گھنٹے سے زائد کی پروازوں میں سفر کو زیادہ پرآسایش بنا دیں گی اور مسافروں کے تجربے میں نمایاں بہتری آئے گی۔

