وزیراعظم شہباز شریف دوحہ پہنچ گئے، امیر قطر سے کلیدی مذاکرات ہوں گے
وزیراعظم شہباز شریف تین ملکی دورے کے دوسرے مرحلے میں جمعرات کو قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے۔ انہوں نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ دوطرفہ تعاون اور خطے میں امن کے اقدامات پر کلیدی مذاکرات کریں گے۔
قومی سلامتی کا اعزاز اور گرمجوشی سے استقبال
دوحہ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر وزیراعظم اور ان کے وفد کا قطر کے وزیر خارجہ سلطان بن سعد المراخی نے استقبال کیا۔ قطر مسلح افواج کے دستوں نے وزیراعظم کو قومی سلامتی پیش کی۔ ہوائی اڈے اور دارالحکومت کے اہم مقامات پر پاکستانی پرچم لہرائے گئے۔
وفد کے ارکان اور دورے کے اہم مقاصد
وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیراعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی اور بین الاقوامی میڈیا کے ترجمان مشرف زیدی شامل ہیں۔ یہ دورہ خطے میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے فروغ کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کے بعد ترکی کا دورہ
یہ دورہ 15 سے 18 اپریل تک جاری رہے گا، جس کا پہلا مرحلہ سعودی عرب تھا۔ قطر کے بعد وزیراعظم ترکی کا دورہ کریں گے جہاں وہ انٹالیہ ڈپلومیسی فورم میں لیڈرز پینل میں شرکت کریں گے اور ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔
خطائی امن کے لیے پاکستان کی کوششیں
وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب اور قطر کے دورے دوطرفہ تناظر میں ہیں، جہاں وزیراعظم نہ صرف موجودہ تعاون بلکہ خطائی امن و سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران امن مذاکرات کی میزبانی کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یہ مذاکرات گذشتہ دہائی میں دونوں ممالک کے درمیان پہلے براہ راست اعلیٰ سطحی مذاکرات تھے، جن میں باقاعدہ معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ اطلاعات ہیں کہ دوسرے دور مذاکرات بھی اسلام آباد میں ہوں گے۔ پاکستان نے خطے میں ثالثی کے کردار کو فعال طور پر اپناتے ہوئے عالمی برادری میں اپنی سفارتی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔

