خلیج میں جنگ کا نیا موڑ: امریکا نے ایران کی بندرگاہوں کا محاصرہ شروع کر دیا، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی
امریکی فوج نے پیر کے روز ایران کی بندرگاہوں سے جہازوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بعد تیل کی عالمی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ایران نے اس اقدام کو "سمندری ڈاکہ زنی” قرار دیتے ہوئے خلیجی ہمسایہ ممالک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی ہے۔
ٹرمپ کا اعلان اور ایران کا ردعمل
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکے گا۔ ہم کسی ملک کو دنیا کو بلیک میل یا بھتہ خوری کرنے نہیں دیں گے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی بحریہ جنگ میں "مکمل طور پر تباہ” ہو چکی ہے۔
ایران کے دفاعی وزارت کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نک نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں غیر ملکی فوجی مداخلت بحران اور عالمی توانائی کی سلامتی میں عدم استحکام کو بڑھائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہوا تو "خلیج اور خلیج عمان کی کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔”
امن مذاکرات ناکام، جنگ بندی خطرے میں
اسلام آباد میں ہونے والی امن مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد بحران میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ بات چیت میں ایران نے اس کی شرائط مسترد کر دیں۔ ایران نے اپنی نئی شرائط میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی تسلیم، پابندیاں اٹھانے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں سے دستبرداری کا مطالبہ کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے طے پانے والی دو ہفتہ کی جنگ بندی خطرے میں پڑتی نظر آ رہی ہے۔
علاقائی جارحیت جاری
اس دوران، اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ پر بمباری جاری رکھی ہے اور پیر کے روز اسرائیلی فوجیوں نے جنوبی لبنان کے ایک اہم قصبے پر قبضے کے لیے کارروائی شروع کر دی۔ اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف مہم جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے، جبکہ ایران اس پر اصرار کر رہا ہے۔
تیل کی مارکیٹ پر اثرات اور عالمی ردعمل
بینچ مارک تیل کی قیمتیں، جو گزشتہ ہفتے جنگ بندی کے اعلان کے بعد کم ہوئی تھیں، پیر کو تقریباً 6 فیصد بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئیں۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کا پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے، کے جلد کھلنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
نیٹو کے اتحادیوں، بشمول برطانیہ اور فرانس، نے کہا ہے کہ وہ محاصرے میں حصہ لے کر تنازعے میں نہیں پھنسیں گے، بلکہ اس پانی کے راستے کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
مسلسل کوششیں اور فتح کا دعویٰ
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی براہ راست بات چیت کے بعد تنازعے کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں طے کیے گئے اہداف حاصل نہ کرنے کے باوجود فتح کا اعلان کیا ہے۔

