افسانوی گلوکارہ آشا بھوسلے 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں، فن کی دنیا سوگوار
ہندوستانی موسیقی کی دنیا کی ایک تابندہ ستاری، افسانوی گلوکارہ آشا بھوسلے جمعرات کے روز 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی رحلت کو فن کے عالم میں ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
دل کا دورہ پڑنے کے بعد ممبئی میں انتقال
ذرائع کے مطابق، آشا بھوسلے کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد ممبئی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ ہندوستانی فلمی موسیقی کی تاریخ کی سب سے زیادہ بااثر اور متنوع آوازوں میں سے ایک تھیں۔
شاہ رخ خان کا جذباتی خراج عقیدت
سپر اسٹار شاہ رخ خان نے انسٹاگرام پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، "آشا تائی کے انتقال کے بارے میں جان کر بہت افسوس ہوا۔ ان کی آواز ہندوستانی سنیما کا ایک ستون رہی ہے اور آنے والی صدیوں تک پوری دنیا میں گونجتی رہے گی۔”
انہوں نے مزید لکھا، "ایسی صلاحیت جو بہت سوں سے زیادہ زندہ رہے گی، انہوں نے ہمیشہ مجھ پر اپنی دعاؤں اور پیار کی بارش کی اور میں انہیں یاد کروں گا۔ آشا تائی، آپ کو سلامتی سے آرام کرنے دیں۔ آپ سے محبت۔”
ہیما مالینی اور کرن جوہر کا غم
اداکارہ ہیما مالینی نے اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آشا بھوسلے کی موت "میرے لیے خاص طور پر مشکل ہے کیونکہ میرا آشا جی کے ساتھ جذباتی تعلق رہا ہے — انہوں نے اپنی منفرد آواز اور انداز سے میرے بہت سے گانے مقبول بنائے۔”
ہدایت کار کرن جوہر نے لکھا، "آشا جی، آپ کی موسیقی ہمیشہ زندہ رہے گی، اور ہم اس جادو کا تجربہ کرنے کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں جو آپ ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئی ہیں! سلامتی اور طاقت میں آرام کریں۔”
لتا منگیشکر سے الگ راستہ اور لازوال ورثہ
آشا بھوسلے نے اپنی بہن، لتا منگیشکر، جو 2022 میں انتقال کر گئی تھیں، سے الگ اپنا موسیقی کا ایک منفرد راستہ بنایا تھا۔ ان کے گائے ہوئے مشہور گانوں میں ’دم مارو دم‘، ’پیا تو اب تو آجا‘، ’لے گئی‘، اور ’شرارہ‘ جیسے نغمات شامل ہیں جو آج بھی مقبول ہیں۔
ایک عہد کا اختتام
آشا بھوسلے کی رحلت نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی موسیقی کی دنیا کے لیے ایک عہد کے اختتام کی علامت ہے۔ ان کی آواز نے کئی نسلوں کو متاثر کیا اور وہ اپنی بے پناہ شراکت کے باعث ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

