ہانیہ عامر کا بڑا بیان: "لوگ خوش عورتوں سے نفرت کرتے ہیں”، سوشل میڈیا کی زہریلی فضا پر تنقید
پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر نے سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف زہریلے رویے، مسلسل موازنے اور معاشرتی دباؤ کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں درپیش مسلسل تنقید دراصل "خوش، بے خوف عورتوں” سے معاشرے کی بے چینی کا اظہار ہے۔
ہفتوں کی خاموشی کے بعد براہ راست اپیل
ہفتوں کی خاموشی کے بعد سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ایک براہ راست ویڈیو پیغام میں اداکارہ نے اعتراف کیا کہ وہ حالیہ تنازعات کے درمیان سوچ بچار کے لیے پیچھے ہٹ گئی تھیں۔ انہوں نے کہا، "میں بہت تھک گئی تھی… مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔”
"لوگ کیا کہیں گے” کا ڈیجیٹل روپ
اپنے پرجوش رویے کے لیے مشہور ہانیہ عامر نے دلیل دی کہ آج کی آن لائن تنقید دراصل "لوگ کیا کہیں گے” کی پرانی سوچ کا ہی ڈیجیٹل روپ ہے۔ ان کا کہنا تھا، "بات وہی ہے… ہم عورتوں کو ‘کالی، گوری، موٹی، پتلی’ کہہ رہے ہیں—بس فونٹ بدل گیا ہے۔”
انہوں نے خواتین کے درمیان موازنے کے وائرل رجحان کو بھی نشانہ بناتے ہوئے "اس یا اُس” پوسٹس کا حوالہ دیا۔ انہوں نے سوال کیا، "اگر بات صرف فیشن کی ہوتی تو آپ مردوں کا مردوں سے موازنہ کیوں نہیں کرتے؟”
خواتین سے داخلی جائزہ لینے کی اپیل
ہانیہ عامر نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ خود اپنے اندر موجود تنقیدی رویے پر غور کریں۔ انہوں نے پوچھا، "کیا ہم کسی شخص سے اس لیے نفرت کر رہے ہیں کہ اس نے بہت کچھ حاصل کر لیا… یا اس لیے کہ وہ اس طرح موجود نہیں ہے جس طرح ہم چاہتے ہیں؟”
ان کا کہنا تھا کہ ایسا رویہ ان خواتین کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا کرتا ہے جو روایتی حدود کو چیلنج کرتی ہیں۔
ایک دوسرے کو قبول کرنے پر زور
اختلافات کے باوجود اکٹھے رہنے پر زور دیتے ہوئے ہانیہ عامر نے آن لائن بدمعاشی اور اس دباؤ کے خلاف وسیع اپیل کی جو افراد کو اپنے آپ کو کم کر کے پیش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، "انہیں جو بھی ہیں رہنے دیں۔ عورتوں کے محض ‘ہونے’ میں ایسا کیا ہے جو لوگوں کو مشتعل کر دیتا ہے؟”
حالیہ تنقید کا پس منظر
واضح رہے کہ ہانیہ عامر کو حال ہی میں اپنی عید کی تصاویر پر آن لائن تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں انہوں نے سفید اور سرخ ساڑی پہنی ہوئی تھی اور بہت کم یا کوئی میک اپ نہیں کیا تھا۔ اس لباس نے موازنے اور تنقید کو جنم دیا، جس میں کچھ صارفین نے اسے "ہندی” لباس قرار دیا۔ اس واقعے نے ثقافتی اظہار اور خواتین کے ذاتی انداز پر ہونے والی تنقید پر بحثوں کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

