امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان اسلام آباد میں امن مذاکرات کا آغاز
خطے میں امن قائم کرنے کے مقصد سے امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آج اسلام آباد میں آغاز ہو گیا ہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قلیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔
پاکستان کی میزبانی اور توقعات
پاکستانی حکام نے دونوں اطراف سے تعمیری مذاکرات کی امید ظاہر کی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا استقبال کیا۔ حکومت پاکستان نے جناح کنونشن سینٹر میں میڈیا کوریج کے لیے خصوصی سہولیات بھی قائم کی ہیں۔
ایرانی وفد کی ساخت
ایران کی جانب سے مذاکرات میں شامل ہونے والے اراکین میں درج ذیل اہم شخصیات شامل ہیں:
- محمد باقر قلیباف (وفد کے سربراہ)
- عباس عراقچی (وزیر خارجہ)
- رضا امیری مقدم (سفیر پاکستان)
- علی اکبر احمدیان (سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل)
- ناصر ہمتی (گورنر سینٹرل بینک)
خطے میں حالیہ تشدد
مذاکرات کے دوران خطے میں تشدد کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں میزائیل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ اسی دوران اسرائیلی فضائی حملے میں جنوبی لبنان کے ایک رہائشی عمارت کے تباہ ہونے سے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
امن کے لیے اہم موقع
ماہرین کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے ایک اہم موقع ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست اعلیٰ سطحی بات چیت سے نہ صرف علاقائی استحکام کو فروغ مل سکتا ہے بلکہ بین الاقوامی تعلقات میں بہتری کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

