شیخ حسینہ کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی آمد: بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے نئی دہلی میں بھارتی ہم منصب سے ملاقات کی
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن نے بدھ کے روز نئی دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ سبھرامنیم جے شنکر سے ملاقات کی۔ یہ دورہ 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ڈھاکہ کی جانب سے بھارت کا پہلا اعلیٰ سطحی دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دورے کا مقصد اور اہم ایجنڈا
بنگلہ دیش کی سرکاری خبررساں ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق یہ ایک "حسن سلوک دورہ” ہے۔ تاہم، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان استرداد، تجارت، دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور سرحدی سلامتی جیسے اہم دو طرفہ معاملات پر بات چیت ہوئی۔
بھارتی وزیر خارجہ کا بیان
سبھرامنیم جے شنکر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ خلیل الرحمٰن کی میزبانی پر خوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے "دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے” پر بات چیت کی۔ جے شنکر نے ملاقات کی مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔ واضح رہے کہ جے شنکر گزشتہ دسمبر میں ڈھاکہ کے دورے پر بھی گئے تھے جہاں انہوں نے سابق رہنما خالدہ ضیاء کی تدفین میں شرکت کی تھی۔
سیاسی تبدیلیوں کے بعد تعلقات میں بہتری
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما طارق الرحمٰن کے فروری میں تاریخی انتخابی کامیابی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے آثار نظر آئے ہیں۔ انہوں نے اس عبوری انتظامیہ کی جگہ لی جو شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد قائم کی گئی تھی۔
شیخ حسینہ کا معاملہ
شیخ حسینہ بھارت فرار ہو گئی تھیں جہاں وہ زیر زمین ہیں، جس نے ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کی تھی۔ بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کے استرداد کے لیے بارہا درخواستیں دی ہیں۔ ان پر 2024 کے انقلاب کے دوران مہلک کارروائی کی منصوبہ بندی کا الزام ہے اور انہیں نومبر میں غائبانہ سزائے موت سنائی گئی تھی۔
توانائی کے شعبے میں تعاون
ذرائع کے مطابق، بنگلہ دیش وسطی شرق کی جنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بھارت سے زیادہ توانائی کی فراہمی کی درخواست کرے گا۔ یہ معاملہ بھی دونوں وزراء کے درمیان گفتگو کا حصہ رہا۔
آئندہ راہ
یہ دورہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کو معمول پر لانے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی بات چیت خطے میں استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

