عدالت نے میشا شافی کو علی ظفر کے مقدمہ ہتک عزت میں 50 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا
لاہور کے سیشن کورٹ نے گلوکار علی ظفر کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے میں گلوکارہ میشا شافی کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے منگل کو یہ فیصلہ سنایا، جس کے بعد یہ ہائی پروفائل قانونی معرکہ اختتام کو پہنچ گیا۔
عدالتی فیصلے کی تفصیلات
دو صفحات پر مشتمل مختصر فیصلے میں عدالت نے میشا شافی کے 19 اپریل 2018 کے ٹویٹ اور 21 اپریل کے انٹرویو کو "جھوٹے، ہتک آمیز اور نقصان دہ” قرار دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ "مدعی (علی ظفر) کو عزت، وقار اور ذہنی اذیت کے نقصان کے عوض معاوضے کا حق حاصل ہے۔ تاہم، خصوصی نقصان کا دعویٰ قابل اعتماد ثبوتوں سے ثابت نہیں ہوا۔ اس لیے 50 لاکھ روپے عمومی نقصان کے طور پر مدعی کو دیے جائیں گے۔”
عدالت نے میشا شافی کو ان ہراسگی کے الزامات سے متعلق مواد مزید شائع کرنے سے بھی روک دیا ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ "مدعا علیہ (میشا شافی) کو مستقل طور پر ان ہتک آمیز الزامات کو کسی بھی شکل میں دہرانے، شائع کرنے یا شائع کروانے سے روکا جاتا ہے۔”
طویل قانونی جنگ کا پس منظر
علی ظفر نے یہ مقدمہ 2018 میں 2002 کے ہتک عزت آرڈیننس کے تحت درج کروایا تھا، جب میشا شافی نے ان پر جنسی ہراسگی کے الزامات عائد کیے تھے۔ علی ظفر نے ان الزامات کی مستقل طور پر تردید کی تھی اور ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔
عدالتی کارروائی کے دوران 20 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ مقدمے میں کل 284 سماعتیں ہوئیں اور اس دوران 9 جج تبدیل ہوئے۔ یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے جنوری میں جاری کردہ حکم کے بعد آیا ہے، جس میں 30 دن کے اندر ہتک عزت کے مقدمے کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
وکیلوں کے ردعمل اور اگلا قدم
فیصلے کے بعد علی ظفر کے وکیل عمر طارق گل نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد معاملہ مزید واضح ہو جائے گا۔ دوسری طرف میشا شافی کے وکیل ثاقب جیلانی نے میڈیا کو بتایا کہ سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔
دونوں فریقوں کو 4 مئی کو ہرجانہ کی رقم ادا کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

