یو ایس بی ڈرائیو سے پول کھلا، جرائم کا دائرہ 9 ممالک تک پھیلا
فرانس کے شہر گرینوبل میں عدالتی حکام نے ایک ایسا ہولناک مقدمہ درج کیا ہے جس نے بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 79 سالہ ایک سابق اسکول ٹیچر پر 1967 سے 2022 تک کے طویل عرصے میں 89 نابالغ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ریپ کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ملزم کو 2024 کے آغاز میں ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔
کیس کا انکشاف: بھانجے کو ملی یو ایس بی ڈرائیو نے کھولی کارروائی
پراسیکیوٹر ایٹین مینٹو کے مطابق ملزم کے بھانجے کو اتفاقاً ایک یو ایس بی ڈرائیو ملی جس میں 13 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کے ساتھ "جنسی تعلقات” کا انتہائی تفصیلی اور منظم ریکارڈ محفوظ تھا۔ یہ ریکارڈ 15 الگ الگ جلدوں پر مشتمل تھا۔ اس ڈیجیٹل ثبوت کی بنیاد پر ہی تحقیقاتی ٹیم 89 متاثرین تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔
بین الاقوامی سطح پر پھیلے ہوئے جرائم، ملزم کا تعلیمی پیشہ تھا ڈھال
پراسیکیوٹر کے دفتر کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ تمام واقعات صرف فرانس میں نہیں بلکہ 9 مختلف ممالک میں پیش آئے، جہاں ملزم بطور معلم کام کرتا تھا۔ ان ممالک میں جرمنی، سوئٹزرلینڈ، مراکش، نائجر، الجزائر، فلپائن، بھارت، کولمبیا اور نیو کیلیڈونیا شامل ہیں۔ اب پراسیکیوٹر نے ان ممالک میں ممکنہ طور پر موجود مزید متاثرین سے رابطہ کرنے کی اپیل جاری کی ہے۔
ماں اور خالہ کے قتل کا بھی اعتراف، تفتیش میں نئی گرما گرمی
تفتیش کے دوران ملزم نے نہ صرف بچوں کے خلاف جرائم کا اعتراف کیا بلکہ دو اور ہولناک قتل کے واقعات بھی بتائے۔ اس نے اعتراف کیا کہ اس نے 1970 کی دہائی میں اپنی کینسر زدہ ماں کو تکیے سے دم گھونٹ کر قتل کیا تھا۔ اسی طرح 1990 کی دہائی میں اس نے 92 سالہ خالہ کو بھی اسی طریقے سے ہلاک کیا تھا۔ ان اعترافات نے کیس کو مزید پیچیدہ اور سنگین بنا دیا ہے۔
ملزم کی حراست اور قانونی کارروائی جاری
79 سالہ ملزم کو اب تک حراست میں رکھا گیا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق یہ کیس فرانس کی تاریخ میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے بدترین واقعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جس کا دائرہ کار اور وقت کی طوالت حیران کن ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس مقدمے کی پیروی بین الاقوامی تعاون سے کی جا رہی ہے۔
