امریکی سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایران 2026 ورلڈ کپ کے میچز میکسیکو منتقل کرنے کی کوشش میں
میکسیکو سٹی: ایران کی فٹ بال فیڈریشن نے فیفا کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ 2026 فیفا ورلڈ کپ کے دوران اس کے گروپ مرحلے کے میچز امریکہ کی بجائے میکسیکو میں منعقد کرائے جا سکیں۔ ایران کے میکسیکو میں قائم سفارت خانے نے اس اقدام کی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو قرار دیا ہے۔
ایرانی عہدیداروں کے بیانات اور سفارتی احتجاج
ایرانی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج نے ایک بیان میں کہا، "جب [صدر] ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایرانی قومی ٹیم کی سیکیورٹی کو یقینی نہیں بنا سکتے، تو ہم یقیناً امریکہ نہیں جائیں گے۔” انہوں نے کہا، "ہم فی الحال فیفا کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں کہ ایران کے ورلڈ کپ میچز میکسیکو میں منعقد کیے جائیں۔”
ایران کے میکسیکو میں سفیر ابوالفضل پسندیدہ نے بھی "ورلڈ کپ سے پہلے ایرانی وفد کے لیے ویزا جاری کرنے اور لاجسٹک سپورٹ مہیا کرنے میں امریکی حکومت کے تعاون نہ کرنے” پر مذمت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے "فیفا کو یہ تجویز بھی دی ہے کہ ایران کے میچز امریکہ سے میکسیکو منتقل کر دیے جائیں۔”
مقررہ شیڈول اور موجودہ منصوبہ بندی
فیفا کے موجودہ شیڈول کے مطابق، ایران کو گروپ B میں لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ اور بیلجیم کے خلاف، اور سیئٹل میں مصر کے خلاف میچ کھیلنا تھے۔ ٹورنامنٹ کے لیے ٹیم کا بیس کیمپ ایریزونا کے شہر ٹوسان میں ہونا تھا۔ تاہم، گزشتہ ماہ سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایران کی شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
فیفا کا ردعمل اور ٹرمپ کے متنازع بیانات
ایجنسی فرانس پریس کے مطابق، فیفا نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگرچہ ایران کی فٹ بال ٹیم امریکہ میں "خوش آمدید” ہوگی، لیکن انہیں "اپنی زندگی اور حفاظت کے لیے” ٹورنامنٹ میں نہیں آنا چاہیے۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب فیفا کے صدر جیانی انفنٹینو نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ٹرمپ نے انہیں وعدہ کیا تھا کہ ایرانی ٹیم کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ ایران نے ٹرمپ کے بیانات کے جواب میں کہا تھا کہ "کوئی بھی ایران کی قومی ٹیم کو ورلڈ کپ سے خارج نہیں کر سکتا۔”
پس منظر: علاقائی تنازع کا اثر
ایران کی ٹورنامنٹ میں شرکت اس وقت مشکوک ہو گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی علاقوں اور مشرق وسطیٰ بھر میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس بحران نے کھیلوں کے تقاریب اور کھلاڑیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

