کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے دور افتادہ قصبے ٹمبلر رج میں ایک ہائی اسکول میں فائرنگ کا ایک المناک واقعہ پیش آیا جس میں دس افراد کی موت ہو گئی ہے۔ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خود حملہ آور خاتون بھی شامل ہے۔ پولیس نے اس واقعے کو ملک کی حالیہ تاریخ کے بدترین ماس کیسولٹی واقعات میں سے ایک قرار دیا ہے۔
واقعے کی ہولناک تفصیلات
پولیس سپرنٹنڈنٹ کین فلائیڈ نے میڈیا کو بتایا کہ اسکول کے اندر چھ لاشیں برآمد ہوئیں۔ اس کے علاوہ واقعے سے منسلک ایک رہائش گاہ سے دو مزید لاشیں ملی ہیں جبکہ ایک شخص ہسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گیا۔ ابتدائی طور پر پولیس نے مشتبہ شخص کو "براؤن بالوں والی خاتون جو ڈریس پہنے ہوئے ہے” کے طور پر شناخت کیا تھا۔
زخمیوں کی بڑی تعداد
اس ہولناک واقعے میں درج ذیل افراد زخمی ہوئے:
- کم از کم دو افراد کو سنگین یا زندگی کے لیے خطرناک زخم آئے۔
- تقریباً 25 افراد کو غیر جان لیوا زخم آئے۔
پولیس کے مطابق تمام زخمیوں کا علاج ہسپتالوں میں جاری ہے۔
حملہ آور کی شناخت اور موت
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور ایک خاتون تھی۔ شمالی امریکہ میں ماس شوٹنگ کے واقعات میں یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے جہاں ایسے زیادہ تر واقعات مردوں کے ہاتھوں پیش آتے ہیں۔ پولیس کے مطابق مشتبہ خاتون کو اسکول کے اندر خودکشی کرتے ہوئے پایا گیا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ عوام کے لیے اب کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔
ٹمبلر رج: ایک دور افتادہ قصبہ
ٹمبلر رج برٹش کولمبیا کی ایک دور افتادہ میونسپلٹی ہے جس کی آبادی محض 2,400 افراد پر مشتمل ہے۔ یہ قصبہ شمالی برٹش کولمبیا میں راکی ماؤنٹینز کی گھاٹیوں میں واقع ہے اور وینکوور سے تقریباً 1,155 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔
قومی رہنماؤں کا غم اور اظہار تعزیت
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، "میں ٹمبلر رج میں آج کے ہولناک فائرنگ واقعات سے تباہ ہوں۔ میری دعائیں اور گہری تعزیت ان خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس خوفناک تشدد کے واقعات میں کھو دیا ہے۔”
کینیڈا میں ماس شوٹنگ کی تاریخ
یہ واقعہ کینیڈا میں ماس شوٹنگ کے افسوسناک سلسلے کا تازہ ترین باب ہے۔ اپریل 2020 میں نووا سکوشیا کے صوبے میں ایک شخص نے 22 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ اس سے قبل دسمبر 1989 میں مونٹریال کے ایک پولی ٹیکنک اسکول میں ہونے والے واقعے میں 14 طالبات ہلاک ہوئی تھیں، جو ملک کی بدترین اسکول شوٹنگ سمجھی جاتی ہے۔
پولیس کی تحقیقات جاری
پولیس افسران کے مطابق اسکول کے اندر "بہت سے زخمی اور بہت سے ہلاک” افراد موجود تھے۔ سپرنٹنڈنٹ فلائیڈ نے کہا کہ "منظر نامہ بہت ڈرامائی تھا اور متعدد متاثرین کا اب بھی علاج جاری ہے۔” پولیس نے یہ واضح نہیں کیا کہ ہلاکتوں میں کتنے نابالغ شامل تھے۔ تحقیقات کے ابتدائی مراحل میں پولیس واقعے کے محرکات اور اس کی مکمل تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔

