ایف بی آر کے اعداد و شمار سے انکشاف
اسلام آباد: مالی سال 2026 کے پہلے سات مہینوں (جولائی تا جنوری) کے دوران پاکستان کے تنخواہ دار طبقے نے قومی خزانے میں 315 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا ہے۔ یہ رقم ملک کے تین بڑے شعبوں یعنی برآمد کنندگان، خوردہ فروشوں اور جائیداد کی خرید و فروخت کرنے والوں کے مجموعی ٹیکس سے 22 ارب روپے زیادہ ہے، جو اس عرصے میں 293 ارب روپے رہی۔
شعبہ وار ٹیکس کارکردگی
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق:
- برآمد کنندگان نے 50 ارب روپے ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 54 ارب روپے سے کم ہے۔
- خوردہ فروشوں نے دو مختلف سیکشنز کے تحت کل 40 ارب روپے (236جی کے تحت 15 ارب اور 236ایچ کے تحت 25 ارب روپے) جمع کرائے۔
- جائیداد کے شعبے سے 152 ارب روپے وصول ہوئے، جس میں فروخت و منتقلی پر 105 ارب روپے جبکہ خریداری پر 47 ارب روپے ٹیکس شامل ہے۔
تنخواہ دار طبقے کی کارکردگی میں اضافہ
سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین کی ٹیکس ادائیگیاں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 284 ارب روپے کے مقابلے میں 31 ارب روپے اضافے کے ساتھ 315 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ اضافہ ملکی ٹیکس نظام میں تنخواہ دار طبقے کے مرکزی کردار کو مزید مضبوطی سے اجاگر کرتا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جائزے سے قبل اہم اشارے
یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا جائزہ مشن پاکستان کے دورے پر آنے والا ہے۔ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی طور پر مضبوط سمجھے جانے والے طبقات کی نسبت تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق، آنے والے بجٹ 2026-27 میں وزارت خزانہ کے زیر انتظام قائم کردہ نئے ٹیکس پالیسی آفس کے سامنے یہ ایک اہم چیلنج ہوگا کہ وہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے دباؤ میں معقول کمی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو قائل کرسکیں۔

