امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں جنگ کی لہر، ٹرمپ اور ایران کے بیانات متصادم
14 مارچ 2026 — امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورت حال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران "مکمل شکست” سے دوچار ہے جبکہ ایرانی حکام جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا ‘مکمل شکست’ کا دعویٰ اور ایران کا جوابی اعلان
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا، "جعلی خبروں والا میڈیا یہ رپورٹ کرنا پسند نہیں کرتا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف کتنا اچھا کام کیا ہے، جو مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے اور ایک معاہدہ چاہتا ہے—لیکن وہ معاہدہ نہیں جو میں قبول کروں!”
اس کے برعکس، ایران کی پارلیمان کے اسپیکر نے واضح طور پر اعلان کیا کہ "جنگ جاری رہے گی” اور امریکہ و اسرائیل کو متنبہ کیا۔
خطے میں ہلاکتوں اور حملوں کا سلسلہ
تصادم کے نتیجے میں خطے کے مختلف حصوں میں حملے اور جانی نقصان ہوا ہے:
- لبنان میں اسرائیلی حملے میں 12 طبی کارکن ہلاک ہو گئے۔
- ایران نے بحرین میں واقع امریکی اڈے پر حملہ کیا۔
- اسرائیلی فوج نے ایران کے شہر تبریز کے مغربی صنعتی زون کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کی۔
- متحدہ عرب امارات کے قریب ایک امریکی بحری جہاز پر حملے کے بعد آگ لگ گئی۔
معاشی دباؤ اور انسانی بحران
تیل کی قیمتوں میں تیزی
جنگ کے معاشی اثرات میں بین الاقوامی تیل کی قیمت میں برینٹ کرڈل میں 42 فیصد تک اضافہ شامل ہے۔ ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ خارگ جزیرے پر امریکی حملوں سے تیل کے انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
انسانی نقصان اور امدادی صورتحال
سری لنکا نے امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے 84 ایرانی شہریوں کی باقیات واپس بھیج دی ہیں۔ قطر نے کہا ہے کہ اس کے پاس پانی کے ذخائر 4 ماہ اور خوراک کے ذخائر 18 ماہ کے لیے کافی ہیں۔
سیاسی ردعمل اور سفارتی صورتحال
حماس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ایران سے اپیل کی کہ وہ "ہمسایہ ممالک” کو نشانہ بنانے سے گریز کرے، جبکہ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف اپنے دفاع کے حق کی تصدیق بھی کی۔
اس دوران، امریکہ نے ایران کے اعلیٰ عہدیدار مجتبیٰ خامنہ ای اور دیگر پر معلومات کے لیے 10 ملین ڈالر کا انعام بھی رکھا ہے۔ ایرانی میڈیا نے سابق اسرائیلی انٹیلی جنس افسر کے ای میلز ہیک ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
صورت حال انتہائی کشیدہ ہے اور عالمی برادری تشویش کے ساتھ اس بحران پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

