نادرا کا اہم اعلان: ڈیجیٹل آئی ڈی کارڈ اب فزیکل کارڈ کے قانونی طور پر برابر
اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے تمام سرکاری و نجی اداروں کو ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو مکمل طور پر قبول کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے اور اسے نظر انداز کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
قانونی حیثیت میں یکسانیت
نادرا کے ترجمان کے مطابق، ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو فزیکل کارڈ کی طرح ہی مکمل قانونی حیثیت حاصل ہے۔ یہ حیثیت نادرا آرڈیننس کے تحت جاری کردہ ضوابط، خاص طور پر ریگولیشن 9 اور 10 کے تحت دی گئی ہے، جن کے تحت ڈیجیٹل شناختی اسناد کو شناخت کے ثبوت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
اداروں کی جانب سے مسائل کا اعتراف
اتھارٹی نے اعتراف کیا کہ متعدد سرکاری دفاتر اور تنظیمیں اب بھی شہریوں سے فزیکل کارڈ یا فوٹو کاپیاں طلب کرتی ہیں، جو موجودہ قانونی فریم ورک کے خلاف ہے۔ اس عمل سے شہریوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ڈیجیٹل کارڈ کے کلیدی فوائد
نادرا کے مطابق ڈیجیٹل شناختی کارڈ اپنانے سے متعدد فوائد حاصل ہوں گے:
- شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کا بہتر تحفظ ممکن ہوگا۔
- شناختی ڈیٹا کے غلط استعمال میں نمایاں کمی آئے گی۔
- فالتو فوٹو کاپیوں کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔
ہدایات اور احاطہ
نادرا نے درج ذیل اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل کارڈ کو قبول کرنے کے حوالے سے ہدایات پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں:
- تمام سرکاری محکمے
- عوامی و مالیاتی ادارے
- ٹیلی کام آپریٹرز
شکایات درج کرانے کا طریقہ کار
شہری اگر کسی ادارے کی جانب سے ڈیجیٹل کارڈ قبول نہ کرنے کی صورت میں مشکلات کا سامنا کریں تو وہ نادرا کی سرکاری شکایت مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
جدید دور کا تقاضا
نادرا کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل شناختی نظام نہ صرف شہریوں کی سہولت کے لیے ہے بلکہ یہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ڈیٹا سیکیورٹی کے بین الاقوامی معیارات پر پورا اترتا ہے۔

