امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں جنگ، پاکستان کی ہنگامی سفارتی کوششیں
13 مارچ 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہمزمانہ حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس بحرانی صورتحال میں پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
پاکستان کی دوطرفہ سفارتی سرگرمیاں
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پژوشکیان سے ٹیلی فون پر رابطے کے فوراً بعد سعودی عرب کا ہنگامی دورہ کیا۔ وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ نے جیو نیوز کے پروگرام ’نئے پاکستان‘ میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے اور پاکستان اس معاہدے کی پاسداری کرے گا۔
تنازعے کے پھیلاؤ کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات
اس تنازعے کے پھیلاؤ نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور علاقائی عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔ سری لنکا نے امریکی آبدوز کے حملے میں ہلاک ہونے والے 84 ایرانی ملاحوں کی باقیات ایران واپس بھیج دی ہیں۔ عراق میں گرنے والے امریکی فوجی طیارے کے عملے کے تمام چھ ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیل نے ایران کے انقلابی گارڈز کے چوکیوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ تل ابیب کے قریب ایرانی میزائل حملوں کے بعد دھماکے سُنے گئے اور دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔
بین الاقوامی ردعمل اور انتباہات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اگلے ہفتے ایران پر سخت حملے کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن ایران کی تھوڑی بہت مدد کر رہے ہوں گے۔ دوسری طرف، روس اور چین نے واشنگٹن پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگایا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل اور حزب اللہ کی جنگ کی وجہ سے لبنان میں پیدا ہونے والے بے گھر ہونے کے بحران کے لیے 325 ملین ڈالر کی ہنگامی اپیل جاری کی ہے۔
ایران کی طرف سے سخت ردعمل کی دھمکی
ایران نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اس کے توانائی کے مقامات پر کوئی حملہ اس کے "کچلنے والے” ردعمل کو جنم دے گا۔ امریکی دفاعی سکریٹری پٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے پاس مختلف آپشنز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بنیادی مقصد ہرمز آبنائے میں توانائی کے بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے ایران کی بحریہ کو تباہ کرنا ہے۔
فی الحال خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ عالمی برادری سفارتی حل کی امید کر رہی ہے جبکہ فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔

