آئی ایم ایف کے ساتھ مالیاتی معاہدے پر بات چیت میں ’قابل ذکر پیش رفت‘
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جاری فنڈنگ سہولیات کے جائزوں پر بات چیت میں ’قابل ذکر پیش رفت‘ ہوئی ہے اور یہ مذاکرات آئندہ دنوں میں جاری رہیں گے۔
مذاکرات کا دورانیہ اور اہم نکات
آئی ایم ایف کی مشیر ایوا پیٹرووا کے مطابق، یہ بات چیت 25 فروری سے 11 مارچ 2026 تک کراچی اور اسلام آباد میں براہ راست نیز ورچوئل طور پر منعقد ہوئی۔ اس کا مرکز توسیعی فنڈنگ سہولت (ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے اور لچکدار و پائیداری سہولت (آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے پر تبادلہ خیال تھا۔
پیٹرووا نے کہا کہ حالیہ عالمی واقعات کے پاکستانی معیشت پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے مزید گفتگو ہوگی۔
پروگرام کی ہم آہنگی اور پالیسی تجاویز
آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق، فروری 2026 کے اختتام تک ای ایف ایف کے تحت پروگرام پر عملدرآمد حکومتی وعدوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہم آہنگ رہا۔
بیان میں کہا گیا، "آئندہ پالیسیوں پر بات چیت میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے، جس میں عوامی مالیات کو مضبوط بنانے کے لیے مالیاتی یکجہتی کو برقرار رکھنا، افراط زر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ہدف کے دائرے میں مستقل طور پر برقرار رکھنے کے لیے کافی سخت مالیاتی پالیسی اپنانا، اور توانائی کے شعبے کی استعداد کار بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھانا شامل ہے۔”
ساختی اصلاحات اور موسمیاتی لچک پر توجہ
پیٹرووا نے بتایا کہ ترقی کی رفتار تیز کرنے کے حکام کے عزم کو دیکھتے ہوئے ساختی اصلاحات کو گہرا کرنے پر خاص توجہ دی گئی۔ سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے اور صحت و تعلیم کے اخراجات کو بحال کرنے کی کوششوں پر بھی غور کیا گیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے آر ایس ایف کے تحت موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے کی اصلاحات نافذ کرنے میں اچھی پیش رفت کی ہے۔
علاقائی تنازعے کے معاشی اثرات
آئی ایم ایف کے مشیر نے بتایا کہ مذاکرات میں مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے پاکستان کے معاشی امکانات، ادائیگیوں کے توازن اور بیرونی مالیاتی ضروریات پر اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ بات چیت خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی حالات کی سختگی کے تناظر میں ہوئی۔
آئندہ راستہ
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہا ہے کہ اس کی ٹیم اور پاکستانی حکام کے درمیان بات چیت آئندہ دنوں میں جاری رہے گی تاکہ جائزے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اس عمل کا مقصد پاکستان کی معاشی استحکام کے حصول میں مدد فراہم کرنا ہے۔

