خلیجی حملوں کے بعد تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر، عالمی منڈیاں غیر مستحکم
خلیج فارس میں جہازوں پر حملوں اور عراقی تیل کی برآمدات میں رکاوٹ کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں برینٹ کرڈ آئل کی قیمت فی بیرل 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس صورتحال نے ایشیائی اور یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں نمایاں گراوٹ کو جنم دیا ہے۔
مارکیٹوں میں ہلچل اور قیمتوں میں اضافہ
تیل کی قیمتوں میں 9 فیصد کے قریب اضافے نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایشیا پیسیفک شیئر انڈیکس میں 1.6 فیصد جبکہ جاپان کے نکائی انڈیکس میں 1.5 فیصد کمی درج کی گئی۔ یورپی اور امریکی فیوچرز بھی منفی رجحان کا شکار ہیں۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عالمی مہنگائی میں اضافے اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات کو بڑھا رہی ہیں۔
حملوں اور بندرگاہوں کی بندش کی تفصیلات
عراقی سیکیورٹی حکام کے مطابق، ایرانی کشتیوں نے عراقی پانیوں میں دو ایندھن کے ٹینکرز پر حملہ کیا۔ عراقی سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملوں کے بعد ملک کی تیل برآمدی بندرگاہیں مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں۔ اسی دوران، عمان نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنی اہم تیل کی بندرگاہ منی الفحل سے تمام جہازوں کو نکال لیا ہے۔
عالمی ردعمل اور ذخائر سے تیل جاری کرنا
اس بحران کے جواب میں، بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے اپنے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، جو اس تنظیم کی تاریخ کا سب سے بڑا ایکشن ہے۔ امریکہ نے بھی اگلے ہفتے سے اپنے اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو سے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم، مارکیٹ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ اقدام تیل کی قیمتوں پر دیرپا قابو پانے کے لیے ناکافی ثابت ہو سکتا ہے۔
معاشی اثرات
- امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں اضافہ۔
- فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں کمی کے امکانات کم ہوئے۔
- یورپی سینٹرل بینک کی جانب سے جون میں شرح سود بڑھانے کے قیاس۔
- جاپانی ین اور یورو کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمی۔
- امریکی ڈالر میں مضبوطی۔
پاکستان پر مرتب اثرات
خلیج فارس میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران، پاکستان نے تیل درآمد کا راستہ بحیرہ احمر کی جانب موڑ دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ہرمز کے آبنائے کے ممکنہ بندش کے خطرے کے پیش نظر متبادل راستوں کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رکھی گئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات سے لدی چار جہازیں پورٹ قاسم پہنچ چکی ہیں، جو ملک میں ایندھن کے ممکنہ بحران کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔
ماہرین کی پیشنگوئیاں اور انتباہ
معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو تیل کی قیمت فی بیرل 200 ڈالر تک جا سکتی ہے۔ ایران نے پہلے ہی ہرمز کے آبنائے میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں تیزی لاتے ہوئے عالمی برادری کو 200 ڈالر فی بیرل تیل کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی تھی۔ موجودہ حالات عالمی معیشت کے لیے ایک نئے چیلنج کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

