اسلام آباد: حکومت پاکستان نے چھتوں پر سولر پینل نصب کرنے والے نئے صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی بجائے نیٹ بلنگ کا نیا نظام نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت گرڈ کو بجلی فروخت کی شرح نمایاں طور پر کم کر دی گئی ہے۔ تاہم، موجودہ صارفین کو 2030-31 تک پرانے نظام کے تحت فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوگی۔
موجودہ اور نئے صارفین کے لیے علیحدہ پالیسیاں
حکام کے مطابق ملک بھر میں موجودہ سولر صارفین میں سے 80 سے 85 فیصد کو موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت فائدہ جاری رہے گا۔ ان میں سے زیادہ تر کنکشن مالی سال 2024-25 کے دوران منظور ہوئے تھے۔ ان صارفین کے سات سالہ معاہدے کے تحت گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کی شرح سے اضافی بجلی فروخت کرنے کی سہولت برقرار رہے گی۔
دوسری طرف، ترمیم شدہ پالیسی کے تحت آنے والے تمام نئے گھریلو، تجارتی اور صنعتی سولر صارفین نیٹ بلنگ کے نظام پر منتقل کر دیے جائیں گے۔ اس نئے نظام کے تحت یہ صارفین گرڈ کو بجلی 10 سے 11 روپے فی یونٹ کی کم شرح پر فروخت کر سکیں گے اور ان کا معاہدہ پانچ سالہ ہوگا۔
نئے نظام کے مالی اثرات اور حکام کے دعوے
حکام کا کہنا ہے کہ ترمیم شدہ ڈھانچہ صارفین کو ان کی سرمایہ کاری 3 سے 5 سال میں واپس دلائے گا، جبکہ پہلے یہ مدت 18 ماہ تھی۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس سے گرڈ پر انحصار کرنے والے صارفین پر مالی بوجھ میں کمی آئے گی۔
حکام نے واضح کیا کہ گرڈ، جو پہلے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے ایک ورچوئل بیٹری کا کام کرتا تھا، اب اسٹوریج اور سسٹم سپورٹ فراہم کرنے کے معاوضے کا حق دار ہوگا۔
بجلی کی ترسیلی کمپنیوں کو مالی نقصان اور ٹیرف پر اثر
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، چھتوں پر سولر پینلز کی تیز رفتار توسیع کے نتیجے میں مالی سال 2024 میں گرڈ بجلی کی فروخت میں 3.2 ارب یونٹس کی کمی واقع ہوئی، جس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو تقریباً 101 ارب روپے کے آمدنی کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
اس خسارے کے نتیجے میں دیگر بجلی صارفین کے لیے اوسط ٹیرف میں 90 پیسے فی یونٹ کا اضافہ ہوا۔ پاور ڈویژن کے تخمینوں کے مطابق، مالی سال 2034 تک گرڈ کی فروخت میں ہونے والا نقصان تیزی سے بڑھ کر 18.8 ارب یونٹس تک پہنچ سکتا ہے، جس کا مالی اثر 545 ارب روپے اور ٹیرف میں ممکنہ طور پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے کی شکل میں ہوگا۔
سولر صلاحیت میں تیزی سے اضافہ اور سبسڈی کا بوجھ
- آن گرڈ چھت پر سولر صلاحیت 2017 میں محض 5 میگاواٹ سے بڑھ کر 2026 میں 6,975 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔
- 2034 تک اس کے 14,319 میگاواٹ تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
- اسی دوران آف گرڈ سولر صلاحیت پہلے ہی 13,000 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے اور 2034 تک 18,944 میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ آف گرڈ اور ہائبرڈ سولر سسٹمز کی تیز رفتار ترقی نے محفوظ بجلی صارفین کی تعداد 11 ملین سے بڑھا کر 22 ملین کر دی ہے، جس سے سبسڈی کے بوجھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بجلی کے شعبے میں مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
نئے نظام سے ہونے والی بچت
حکام کے مطابق اگر موجودہ نیٹ میٹرنگ کا نظام اسی طرح جاری رہتا تو 2025-34 کے دوران نظام پر مجموعی مالی اثر 4,360 ارب روپے تک پہنچ جاتا۔ ترمیم شدہ نیٹ بلنگ میکانزم کے تحت، اب اسی عرصے کے دوران یہ اثر کم ہو کر 2,134 ارب روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس سے نظام پر بوجھ میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

