خلیج ہرمز میں رکاوٹوں کے بعد پاکستان نے بحیرہ احمر کے راستے خام تیل کی درآمد کا آغاز کر دیا
ذرائع کے مطابق پاکستان نے خام تیل کی درآمد کے لیے بحیرہ احمر کے متبادل راستے کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے بعد خلیج ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تھی۔
پی این ایس سی کا جہاز سعودی عرب سے روانہ
شپنگ ذرائع کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کا ایک جہاز سعودی عرب کی بندرگاہ یانبو پر پہنچ چکا ہے۔ یہ جہاز جمعرات کے روز 73 ہزار ٹن خام تیل لے کر کراچی کے لیے روانہ ہو گا۔
دیگر جہازوں کی صورتحال
پی این ایس سی کا ایک اور جہاز ’شالامار‘ فجیرہ بندرگاہ سے تیل لادنے میں کامیاب ہو گیا ہے اور وہ کراچی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیج ہرمز میں رکاوٹوں کی وجہ سے دو پی این ایس سی جہاز کراچی کے قریب اور ایک چارٹر جہاز بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔
عالمی تیل کی قیمتوں اور مقامی اثرات
خلیج ہرمز، جو عالمی تیل کی نقل و حمل کا اہم راستہ ہے، میں جہاز رانی تقریباً ایک ہفتے قبل امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے رک گئی ہے۔ اس نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جو 2022 کے بعد سے نہ دیکھے گئے سطحوں پر پہنچ گئی ہیں۔
عالمی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں پاکستان کی وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے۔ پٹرول کی نئی قیمت 321.17 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
پورٹ قاسم پر پٹرول کی ترسیل
منگل کو پورٹ قاسم پر پٹرول سے لدے چار جہاز پہنچے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 37 ہزار ٹن پٹرول پہلے ہی اتارا جا چکا ہے، جبکہ 50 ہزار ٹن کی ایک اور ترسیل منتقل کی جا رہی ہے۔
یہ صورتحال پاکستان کی توانائی کی سلامتی کے لیے ایک اہم موڑ ہے، جہاں ملک عالمی بحران کے درمیان متبادل راستوں کے ذریعے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

