ایران نے اقتصادی اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی، خطے میں کشیدگی بڑھی
خلیجی ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی ترجمان نے کہا ہے کہ اس طرح کی قرارداد ‘جارحین کو انعام’ دے گی اور اس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھے گا۔
امریکی فوجی زخمی، بحری جہاز تباہ
ذرائع کے مطابق، ایران کے ساتھ جاری تصادم میں تقریباً 150 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع نے اسٹریٹ آف ہرمز میں غیر فعال بارودی سرنگیں بچھانے والے بحری جہازوں کو تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی قیادت کی صحت پر متضاد بیانات
ایک اسرائیلی سینئر اہلکار کے مطابق، اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای حملوں میں ہلکے زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم، ایرانی صدر کے بیٹے یوسف پژوشکیان نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ "خدا کا شکر ہے، وہ محفوظ اور تندرست ہیں”۔
اقتصادی مفادات کو ہدف بنانے کی وارننگ
ایرانی ریاستی میڈیا کے مطابق، خطے میں امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ اقتصادی اور بینکاری مفادات کو ہدف بنایا جائے گا۔ خاتم الانبیاء جوائنٹ کمانڈ کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ دشمن کے ایک بینک پر حملے کے بعد یہ دھمکی دی گئی ہے۔
دبئی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حادثہ، چار زخمی
دبئی حکومت نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب دو ڈرون گرنے سے چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں گھانائی، بنگلہ دیشی اور بھارتی شہری شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہوائی ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے۔
سلامتی کونسل میں ووٹنگ اور بین الاقوامی ردعمل
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بحرین کی طرف سے پیش کردہ ایک مسودہ قرارداد پر ووٹ ڈالا، جس میں ایران پر بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
چین نے کہا ہے کہ وہ خلیجی ممالک پر حملوں سے "متفق نہیں” ہے اور شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر تمام بے ترتیب حملوں کی مذمت کرتا ہے۔
لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملے، تین ہلاک
لبنان کے جنوبی علاقے بنت جبیل میں صف الحوا کے مقام پر ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی ڈرون حملے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایک علیحدہ ڈرون حملے میں دو شامی شہری زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
خطے میں سفارتی کوششیں
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پژوشکیان کے درمیان ٹیلی فونک بات چیت ہوئی، جس میں ایرانی صدر نے بین الاقوامی برادری کو جنگ کے ذمہ داروں کی طرف توجہ دینے کی وارننگ دی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے سربراہ سے بات چیت میں کہا ہے کہ ایران کی ٹیم شمالی امریکہ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں حصہ لے سکتی ہے۔
اس وقت خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور بین الاقوامی برادری تنازعے میں اضافے کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہے۔

