فرانس میں ڈی زیڈ مافیا کے خلاف تاریخی آپریشن، 42 افراد گرفتار
مارسیلز۔ فرانسیسی عدالتی اور پولیس حکام نے منظم جرائم کے نیٹ ورک ’ڈی زیڈ مافیا‘ کے خلاف ایک وسیع آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے جس میں 42 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ’آپریشن آکٹوپس‘ کے نام سے ہونے والی اس کارروائی میں تنظیم کے سربراہان بھی شامل ہیں۔
کئی محکموں میں ہم وقت کارروائی
ذرائع کے مطابق یہ آپریشن کئی مہینوں کی خفیہ تیاری کے بعد انجام دیا گیا۔ کارروائی یکساں طور پر بوچیس-ڈو-رہون، وار، ووکلوز اور گارڈ کے محکموں میں کی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ تنظیم منشیات کی اسمگلنگ سے پروان چڑھی ہے اور اب اس کی سرگرمیاں مارسیلز سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکی ہیں۔
تنظیم کے بانی گرفتار
گرفتار ہونے والوں میں تنظیم کے تین اہم سربراہ بھی شامل ہیں جو اعلیٰ سیکیورٹی جیلوں میں قید تھے۔ انہیں خصوصی فورس جی آئی جی این کے اہلکاروں نے عدالتی کارروائی کے لیے جیل سے نکالا۔ گرفتار افراد میں 32 سالہ امین او المعروف ’مامین‘، 31 سالہ گیبریل او المعروف ’گیبی‘ اور مہدی شامل ہیں جنہیں ڈی زیڈ مافیا کے بانی قرار دیا جاتا ہے۔
وکیل پر سنگین الزامات
آپریشن کے دوران ایک وکیل کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جس پر تنظیم کے لیے کام کرنے کے الزامات ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس وکیل پر الزام ہے کہ اس نے ایک قیدی کے لیے جیل سے باہر غیرقانونی رابطے کا نظام قائم کیا۔ ان بات چیت کو تحقیقاتی ٹیموں نے ریکارڈ کیا تھا۔ وزیر انصاف گیرالڈ ڈارمینن نے اس معاملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
کساسی قتل کیس سے تعلق
امین او پر 2020 کے تہرا قتل کے مقدمے میں بھی مقدمہ چلایا جانا ہے۔ اس واقعے میں ایک ہلاک براہیم تھے جو اینٹی منشیات کارکن امین کساسی کے بڑے بھائی ہیں۔ امین کساسی کے چھوٹے بھائی مہدی کساسی کے نومبر میں قتل کے بعد سے یہ کیس خاص اہمیت اختیار کر گیا تھا۔
ہائیڈرا جیسا نیٹ ورک
پولیس ذرائع کے مطابق ڈی زیڈ مافیا کوئی روایتی منظم جرائم تنظیم نہیں بلکہ ایک ’ہائیڈرا‘ کی مانند ہے جس کا کوئی واضح ڈھانچہ یا مرکزی قیادت نہیں۔ یہ تنظیم سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتیاں کرتی ہے جس میں معمولی نگہبان سے لے کر معاوضے پر قاتل تک شامل ہیں۔
عدالتی حکام نے ہفتے کی صبح پریس کانفرنس کا اعلان کیا ہے جس میں آپریشن کی مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔ اس کارروائی کو فرانسیسی حکام کی جانب سے منشیات کے خلاف جنگ میں ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

