روسی ایس-500 پرومیٹھیس: ہوا اور میزائل حملوں کے خلاف نئی ڈھال
روسیہ نے اپنے جدید ترین ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے اور میزائل شکن دفاعی نظام ایس-500 پرومیٹھیس کو فعال خدمت میں شامل کر لیا ہے۔ اس نظام کو روسی دفاعی کمپنی الماز-انٹی نے تیار کیا ہے اور یہ 16 ستمبر 2021 سے روسی مسلح افواج کا حصہ ہے۔
تکنیکی صلاحیتیں اور کارکردگی
ایس-500 پرومیٹھیس کو انتہائی اعلیٰ کارکردگی کا حامل نظام قرار دیا جاتا ہے۔ یہ 500 سے 600 کلومیٹر تک کے فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کی رفتار 5 سے 7 کلومیٹر فی سیکنڈ (ماخ 20 تک) بتائی جاتی ہے جبکہ یہ 100 سے 200 کلومیٹر کی بلندی تک ہوائی اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ نظام ایک وقت میں 10 ہائپرسونک ہدفوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی جدید ریڈار اور میزائل ٹیکنالوجی اسے ہوائی جہاز، ڈرونز، کروز میزائل اور یہاں تک کہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے ہیڈز کو بھی روکنے کے قابل بناتی ہے۔
تاریخِ ترقی اور موجودہ حیثیت
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے 2011 میں پہلی بار اس نظام کے حوالے سے اعلان کیا تھا۔ 2022 میں الماز-انٹی کے سربراہ یان نوویکوف نے تصدیق کی کہ ایس-500 کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع ہو چکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس نظام کو ماسکو کے فضائی دفاع کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ دوسری رجمنٹ کی تشکیل 2022 کے پہلے نصف میں متوقع تھی۔
نظام کی بنیادی خصوصیات
یہ نظام الگ الگ کاموں کے اصول پر کام کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ میزائل اور ہوائی دونوں طرح کے ہدف تباہ کر سکتا ہے۔ ایس-500 میں مختلف ٹریکٹر، لانچر، کمانڈ پوسٹس، اور جدید ریڈار سسٹم شامل ہیں جو مختلف قسم کے ملٹی ایکسل ملٹری وہیکلز پر نصب ہیں۔ اس کی نقل و حرکت اور تیز تعیناتی کی صلاحیت کو اس کی اہم خوبی قرار دیا جاتا ہے۔
امکانی صارفین اور بین الاقوامی ردعمل
روس اس نظام کا بنیادی صارف ہے۔ تاہم، ترکی نے بھی اس میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور مشترکہ پیداوار کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ الجزائر کے ساتھ 2021 میں ہونے والے ایک بڑے دفعی معاہدے میں ایس-500 کے حصول کی بات بھی کی گئی تھی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایس-500 پرومیٹھیس روسی فضائی دفاع میں ایک اہم اضافہ ہے جو ملک کو مختلف قسم کے ہوائی خطرات سے بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی تعیناتی سے خطے میں دفاعی توازن پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

