ایران امریکا جنگ: ٹرمپ کی سخت دھمکیوں اور پیزشکیان کے ہتھیار ڈالنے سے انکار نے کشیدگی بڑھا دی
ایران اور امریکا کے درمیان جاری تصادم اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے، جبکہ دونوں طرف کے رہنماؤں کے تازہ بیانات نے سفارتی حل کے امکانات کو مزید کم کر دیا ہے اور خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ٹرمپ کی سوشل میڈیا پر جنگجویانہ دھمکیاں
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹرتھ سوشل’ پر ایران کو "بہت سخت” نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ انہوں نے لکھا، "آج ایران کو بہت سخت ضرب لگے گی!”
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا، "ایران کے برے رویے کی وجہ سے اب ان علاقوں اور افراد کے گروہوں کو مکمل تباہی اور یقینی موت کے لیے سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نشانے پر نہیں تھے۔”
صدر پیزشکیان کا ہتھیار ڈالنے سے واضح انکار
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ریاستی ٹیلی ویژن پر خطاب میں امریکا اور اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا۔ ٹرمپ کے "غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کے مطالبے کے جواب میں ان کا لہجہ اشتعال انگیز تھا۔
صدر پیزشکیان نے کہا، "دشمن (اسرائیل اور امریکا) ایرانی عوام کے ہتھیار ڈالنے کی خواہش اپنی قبروں میں لے جا سکتے ہیں۔” انہوں نے تنازعے کے آغاز میں ہمسایہ ممالک پر ہونے والے ایرانی حملوں پر معذرت بھی کی، جو گزشتہ ہفتے بھی جاری رہے۔
خطے میں جاری جوابی کارروائیاں
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد سے، ایران نے ہمسایہ ممالک میں فوجی اڈوں اور تیل کی سہولیات کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ پیزشکیان نے وضاحت کی کہ اب ان ممالک پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے، سوائے اس صورت کے کہ ان کے علاقے سے مستقبل میں کوئی حملہ ہو۔
ٹرمپ کا ایرانی بیان پر طنزیہ ردعمل
صدر پیزشکیان کے بیان کے بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے "معافی مانگ لی ہے” اور "مشرق وسطیٰ کے اپنے ہمسایہ ممالک کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔”
انہوں نے لکھا، "یہ وعدہ صرف امریکا اور اسرائیل کے مسلسل حملوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔” ٹرمپ نے مزید کہا، "ایران اب ‘مشرق وسطیٰ کا ظالم’ نہیں رہا، بلکہ ‘مشرق وسطیٰ کا ہارا ہوا’ ہے، اور یہ کئی دہائیوں تک ایسا ہی رہے گا جب تک کہ وہ ہتھیار نہیں ڈال دیتا یا، زیادہ امکان ہے، مکمل طور پر ٹوٹ نہیں جاتا!”
سفارتی راستے معدوم، تصادم کے پھیلاؤ کا خدشہ
دونوں رہنماؤں کے تازہ ترین بیانات سے اشارہ ملتا ہے کہ جنگ میں فوری سفارتی حل کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کشیدہ بیانات خطے میں تصادم کو مزید وسعت دینے اور ایک طویل جنگ کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

