# ایران پر اسرائیلی فضائی حملے، بھارت کا ایرانی جنگی جہاز کو انسانی بنیادوں پر پناہ
اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران اور مرکزی شہر اصفہان پر ہوائی حملوں کی ایک نئی لہر کا آغاز کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق، "آئی ڈی ایف نے تہران اور اصفہان میں ایرانی حکومت کے بنیادی ڈھانچے کی طرف حملوں کی ایک وسیع لہر شروع کر دی ہے۔” فوجی ذرائع کے مطابق اس سے قبل 80 لڑاکا جہازوں نے تہران اور مرکزی ایران پر ایک اور حملہ مکمل کیا تھا۔
### بھارت کا انسانی اقدام
بھارت نے ایک ایرانی جنگی جہاز کو انسانی ہمدردی کے تحت اپنے بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہفتے کے روز کہا کہ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب امریکہ نے ہمسایہ ملک سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک اور ایرانی بحری جہاز ڈوبو دیا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، ایرانی جہاز ‘لاوان’ بدھ کے روز بھارت کی جنوبی بندرگاہ کوچی میں داخل ہوا۔ یہ وہی دن تھا جب امریکی آبدوز نے ایرانی بحریہ کے جہاز ‘ڈینا’ پر حملہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کی طرف سے ایک فوری درخواست موصول ہوئی تھی۔
وزیر خارجہ شنکر نے کہا، "ہم نے اس معاملے کو قانونی مسائل سے بالاتر ہو کر انسانی نقطہ نظر سے دیکھا۔ میرے خیال میں ہم نے صحیح کام کیا۔” ذرائع کے مطابق، جہاز کو تکنیکی مسائل کا سامنا تھا اور اس کے 183 عملے کے اراکین کو کوچی میں بحری سہولیات میں رکھا گیا ہے۔
### لبنان میں ہلاکتیں اور خلیج میں تنازعہ
لبنان کے مشرقی قصبے نبی چت پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ لبنانی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور 35 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس ہفتے جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے یہ اسرائیلی بمباری کے سب سے مہلک واقعات میں سے ایک ہے۔
دوسری جانب، ایران کے انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیج میں مالٹا کے پرچم کے تحت چلنے والے آئل ٹینکر ‘پرائما’ پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق، جہاز کو ہرمز کے آبنائے میں غیر محفوظ ٹریفک کے حوالے سے بارہا انتباہ دیے گئے تھے۔
### ایرانی صدر کا موقف
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ملکی قیادت نے ہمسایہ ممالک پر حملوں کو معطل کرنے کی منظوری دے دی ہے، بشرطیکہ ان ممالک کی طرف سے ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔ صدر نے اپنے خطاب میں ہمسایہ ممالک سے ایران کے حملوں پر معافی مانگی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایران کبھی بھی اسرائیل اور امریکہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
### خطے میں دیگر اہم واقعات
خطے میں کشیدگی کے دیگر واقعات میں شامل ہیں:
* ایران کے انقلابی گارڈز نے عراق کے کردستان خطے میں ‘علیحدگی پسند گروہوں’ کو نشانہ بنایا۔
* دبئی ایئرپورٹ کی رن وے پر ڈرون حملے کی اطلاعات ہیں۔
* امارات ایئرلائنز نے دبئی سے آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔
* ایران کے اقوام متحدہ کے ایلچی کے مطابق، جنگ میں 1,332 ایرانی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ تمام واقعات اس وقت سامنے آ رہے ہیں جب خطے میں کشیدگی انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے اور بین الاقوامی ردعمل جاری ہے۔

